بنیادی مسائل کے جوابات — Page 51
سوال: انڈیا سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں تحریر کیا کہ خدا تعالیٰ کون ہے اور کیا ہے ؟ Big Bang سے کائنات کا آغاز ہوا اور اس وقت سے کائنات خود بخود چل رہی ہے تو پوری کائنات ہی خدا ہے؟ کہا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد ہم خدا تعالیٰ کے پاس چلے جاتے ہیں، یہ کس طرح ہوتا ہے ؟ روح کی حقیقت کیا ہے اور جب جنت اور جہنم کائنات کے مختلف حصے ہیں تو کیا روح ان کے درمیان سفر کر سکتی ہے یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو سکتی ہے؟ حضو انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 10 مارچ 2022ء میں ان سوالات کے درج ذیل جوابات عطا فرمائے۔حضور نے فرمایا: جواب: اسلامی تعلیمات ، جن پر ہمارا کامل ایمان ہے ان کے مطابق خدا تعالیٰ کی ذات وہ ہستی ہے جو اس کائنات کے سارے نظام کو چلا رہی ہے۔چنانچہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہر چیز کو کسی نہ کسی ذات یا ہستی نے بنایا ہے اور سائنس بھی اس بات کو مانتی ہے کہ کائنات کی ہر چیز خود بخود نہیں ہے بلکہ اس کا کوئی نہ کوئی بنانے والا ضرور ہے۔سائنس اسے نیچر کہتی ہے اور ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی بتائی ہوئی تعلیمات کے مطابق اس ہستی کو خدا تعالیٰ کی ذات مانتے ہیں۔باقی خدا تعالیٰ کی لا محدود ہستی انسانی محدود علم سے بہت بالا اور برتر ہے۔اس کے متعلق ہمارا ایمان وہی ہے جو قرآن کریم نے ہمیں عطا فرمایا ہے کہ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ - اللهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ - (سورة الاخلاص) یعنی تو کہہ دے کہ اللہ اپنی ذات میں اکیلا ہے۔اللہ وہ ہستی ہے جس کے سب محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں)۔نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ وہ جنا گیا ہے۔اور اس کا کبھی کوئی ہمسر نہیں ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ کی ہستی کے بارہ میں فرماتے ہیں: ”خدا اپنی ذات اور صفات اور جلال میں ایک ہے۔کوئی اس کا شریک نہیں۔سب اس کے حاجت مند ہیں۔ذرہ ذرہ اس سے زندگی پاتا ہے۔وہ گل چیزوں کے لئے مبدء فیض ہے اور آپ کسی سے فیضیاب نہیں۔وہ نہ 51