بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 24 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 24

نبوت کے بعد خلافت ہوتی ہے۔ان الہی وعدوں کے مطابق پہلے آنحضور ﷺ کے وصال کے معا بعد خلافت راشدہ کی صورت میں خلافت علی منہاج النبوۃ کا یہ سلسلہ مومنوں میں قائم ہوا۔اور پھر اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں حضور الم کی ایک پیشگوئی کے مطابق یہی سلسلہ آپ کے غلام صادق مسیح محمدی کی بعثت کے بعد قائم ہوا۔چنانچہ ہمارے آقا و مولا حضرت اقدس محمد مصطفی الم نے اپنے ایک ارشاد میں اس خوشخبری کو اس طرح بیان فرمایا ہے۔حضرت حذیفہ بن یمان کی روایت ہے کہ آپ اللم نے فرمایا تم میں نبوت قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا پھر وہ اس کو اٹھالے گا اور خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہو گی۔پھر اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس نعمت کو بھی اٹھالے گا۔پھر اس کی تقدیر کے مطابق ایذارساں بادشاہت قائم ہو گی جس سے لوگ دل گرفتہ ہوں گے اور تنگی محسوس کریں گے۔جب یہ دور ختم ہو گا تو اس کی دوسری تقدیر کے مطابق اس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہو گی۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا رحم جوش میں آئے گا اور اس ظلم و ستم کے دور کو ختم کر دے گا۔اس کے بعد پھر خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہو گی۔یہ فرما کر آپ خاموش ہو گئے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 285 مسند النعمان بن بشیر حدیث نمبر 18596 عالم الكتب بيروت 1998ء) اس قرآنی وعدہ اور حضور الم کے مذکورہ بالا ارشادات میں یہ پیش خبریاں موجود تھیں کہ امت محمد یہ میں اللہ تعالیٰ جہاں خلافت علی منہاج النبوۃ کے سلسلے قائم فرمائے گا وہاں اس کے ساتھ مسلمانوں میں کئی دنیاوی قسم کی بادشاہتیں اور خلافتیں بھی قائم ہوں گی لیکن خلافت علی منہاج النبوۃ کی نشانی یہ ہو گی کہ وہ خلافت شدت پسندوں کا جواب شدت پسندی کے رویے دکھا کر قائم نہیں ہو گی۔مسلم اللہ کے دو گروہوں کے درمیان گولیاں چلانے اور قتل و غارت کرنے سے حاصل نہیں ہو گی بلکہ وہ خلافت اللہ تعالیٰ کے رحم کو جوش دلانے سے قائم ہونے والی خلافت ہو گی۔اور جو خلافت اللہ تعالیٰ کے رحم اور اس کی عنایت کے نتیجہ میں ملے گی وہ نہ صرف اپنے متبعین کے لئے محبت پیار اور خوف کے بعد امن کا سامان کرنے والی ہو گی، دین کی مضبوطی کی ضامن ہو گی، اللہ تعالیٰ کی توحید کو دنیا میں قائم کرنے والی ہو گی بلکہ گل دنیا کے لئے بھی امن کی ضمانت ہو گی۔حکومتوں کو انصاف کرنے اور ایمانداری اختیار کرنے کی طرف توجہ دلائے گی۔عوام کو ایمانداری اور محنت سے فرائض کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائے گی۔24