بنیادی مسائل کے جوابات — Page 23
اپنی ایک اور تصنیف میں آپ فرماتے ہیں: ”ہمارا یہ ایمان ہے کہ آخری کتاب اور آخری شریعت قرآن ہے اور بعد اس کے قیامت تک ان معنوں سے کوئی نبی نہیں ہے جو صاحب شریعت ہو یا بلا واسطہ متابعت آنحضرت ام وحی پا سکتا ہو بلکہ قیامت تک یہ دروازہ بند ہے۔اور متابعت نبوی سے نعمت وحی حاصل کرنے کے لئے قیامت تک دروازے کھلے ہیں۔وہ وحی جو اتباع کا نتیجہ ہے کبھی منقطع نہیں ہو گی مگر نبوت شریعت والی یا نبوت مستقلہ منقطع ہو چکی ہے۔“ ریویو بر مباحثہ بٹالوی چکڑالوی، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 213) 3۔خلافت علی منہاج النبوۃ سے مراد خلافت کا وہ سلسلہ ہے جو نبوت کے بعد اسی کے نقش پا پر اور اسی کے کاموں کو آگے بڑھانے کے لئے جاری ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم نے اس خلافت کا وعدہ مومنین کے ساتھ ان الفاظ میں فرمایا ہے:۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضِي لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُوْنَ بِي شَيْئًا وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفُسِقُونَ (سورة النور:56) یعنی اللہ نے تم میں سے ایمان لانے والوں اور مناسب حال عمل کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کو زمین میں خلیفہ بنا دے گا۔جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنا دیا تھا۔اور جو دین اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے وہ ان کے لئے اُسے مضبوطی سے قائم کر دے گا اور ان کے خوف کی حالت کے بعد وہ ان کے لئے امن کی حالت تبدیل کر دے گا۔وہ میری عبادت کریں گے (اور) کسی چیز کو میرا شریک نہیں بنائیں گے اور جو لوگ اس کے بعد بھی انکار کریں گے وہ نافرمانوں میں سے قرار دیئے جائیں گے۔پھر ایک حدیث رسول ا میں بھی بیان ہوا ہے کہ مَا كَانَتْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا تَبِعَتُهَا خلافة (الجامع الصغير للسيوطي الجزء الثاني صفحه 126 مطبوعه مصر 1306 هجري) یعنی ہر 23