بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 16 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 16

پس ان چیزوں کی ممانعت میں بظاہر یہ حکمت نظر آتی ہے کہ ان کے نتیجہ میں اگر انسان کی جسمانی وضع قطع میں اس طرح کی مصنوعی تبدیلی واقع ہو جائے کہ مرد و عورت کی تمیز جو خدا تعالیٰ نے انسانوں میں پیدا کی ہے وہ ختم ہو جائے، یا اس قسم کے فعل سے شرک جو سب سے بڑا گناہ ہے اس کی طرف میلان پیدا ہونے کا اندیشہ ہو یا ان امور کو اس لئے بجالایا جائے کہ اپنی مخالف جنس کا ناجائز طور پر اپنی طرف میلان پیدا کیا جائے تو یہ سب افعال ناجائز اور قابل مواخذہ قرار پائیں گے۔حضور الم نے ان برائیوں کے اس پس منظر میں جہاں اُس وقت مومن عورتوں کو ان کاموں منع فرمایا وہاں تکلیف یا بیماری کی بناء پر جائز حد تک اس کا استثناء بھی فرمایا۔چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ النَّامِصَةِ وَالْوَاشِرَةِ وَالْوَاصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ إِلَّا مِنْ دَاءٍ (مسند احمد بن حنبل) یعنی میں نے حضور ﷺ کو عورتوں کو موچنے سے بال نوچنے، دانتوں کو باریک کرنے ، مصنوعی بال لگوانے اور جسم کو گودنے سے منع فرماتے ہوئے سنا۔ہاں کوئی بیماری ہو تو اس کی اجازت ہے۔اسلام نے اعمال کا دار مدار نیتوں پر رکھا ہے۔لہذا اس زمانہ میں پردہ کے اسلامی حکم کی پابندی کے ساتھ اگر کوئی عورت جائز طریق پر اور جائز مقصد کی خاطر ان چیزوں سے فائدہ اٹھاتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔لیکن اگر ان افعال کے نتیجہ میں کسی برائی کی طرف میلان پید ا ہو یا کسی مشرکانہ رسم کا اظہار ہو یا اسلام کے کسی واضح حکم کی نافرمانی ہو ، مثلاً اس زمانہ میں بھی خواتین اپنی صفائی یا ویکسنگ و غیرہ کرواتے وقت اگر پردہ کا التزام نہ کریں اور دوسری خواتین کے سامنے ان کے ستر کی بے پردگی ہوتی ہو تو پھر یہ کام حضور الی یوم کے اسی انذار کے تحت ہی شمار ہو گا۔اور اس کی اجازت نہیں ہے۔پھر اس ضمن میں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ نے فتنہ اور فساد کو قتل سے بھی بڑا گناہ قرار دے کر فساد کو روکنے کا حکم دیا ہے۔بعض ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ رشتے اس لئے ختم کر دیئے گئے یا شادی کے بعد طلاقیں ہوئیں کہ مرد کو بعد میں پتہ چلا کہ عورت کے چہرے پر بال 16