بنیادی مسائل کے جوابات — Page 15
بالوں میں لمبی گوتیں لگا کر سر پر بالوں کی پگڑی بنا کر اسے بزرگی کی علامت سمجھنا، کسی پیر اور گرو کی نذر کے طور پر بالوں کی کٹیں بنانا یا بودی رکھ لینا، چار حصوں میں بال کر کے درمیان سے استرے سے منڈوا دینا اور اسے بچوں کے لئے باعث برکت سمجھنا۔اسی طرح برکت کے لئے جسم ، چہرہ اور بازو وغیرہ پر کسی دیوی، بت یا جانور کی شکل گند ھوانا۔یہ سب مشرکانہ طریق تھے اور ان کے پیچھے زمانہ جاہلیت میں مذہبی تو ہمات کار فرما تھے۔دوسری بات یعنی حسن کے حصول کی خاطر ایسا کرنا، بعض اعتبار سے معاشرتی بے راہ روی اور فحاشی کو ظاہر کرتی ہے۔جائز حدود میں رہتے ہوئے انسان کا اپنی خوبصورتی کے لئے کوئی جائز طریق اختیار کرنا منع نہیں۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ مجھے اچھا لگتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میرے کپڑے اچھے ہوں، میری جوتی اچھی ہو، تو کیا یہ تکبر میں شامل ہے ؟ اس کے جواب میں حضور ا نے فرمایا یہ تکبر نہیں، تکبر تو حق کا انکار کرنے اور دوسروں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔اور اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا إِنَّ اللهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الجمال یعنی اللہ تعالیٰ بہت زیادہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔(صحیح مسلم كتاب الايمان باب تخريمِ الْكِبْرِ وَبَيَانِهِ) اسی طرح یہ امر بھی ثابت ہے کہ اُس زمانہ میں بھی بچیوں کی جب شادی ہوتی تھی تو انہیں بھی اس زمانہ کے طریق کے مطابق بناؤ سنگھار کر کے تیار کیا جاتا اور خوبصورت بنایا جاتا تھا۔پس جس حسن کے حصول پر حضور لم نے لعنت کا انذار فرمایا ہے، اس کا یقیناً کچھ اور مطلب ہے۔چنانچہ جب ہم اس حوالہ سے ان احادیث پر غور کرتے ہیں تو ہمیں یہ بات بھی نظر آتی ہے کہ ان باتوں کی ممانعت کے ساتھ حضور م نے یہ بھی فرمایا کہ بنی اسرائیل اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کی عورتوں نے اس قسم کے کام شروع کئے۔( صحیح بخاری کتاب اللباس) اور پھر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ حضور ﷺ کی بعثت کے وقت یہود میں فحاشی عام تھی اور اس وقت مدینہ ا میں خصوصاً یہود کے علاقہ میں فحاشی کے کئی اڈے موجود تھے ، جن میں ملوث خواتین، مر دوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی خاطر بناؤ سنگھار کے لئے اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتی تھیں، اس لئے رسولِ خدام نے ان کاموں کی شناعت بیان فرما کر مومن عورتوں کو اس وقت اس سے منع فرما دیا۔15