بنیادی مسائل کے جوابات — Page 7
کے لئے ، شیاطین کو مارنے کے لئے اور راستہ معلوم کرنے کے لئے علامت کے طور پر بنائے گئے ہیں اور جس نے اس سے ہٹ کر ان کی کوئی اور تاویل کی تو اس نے غلطی کی اور ایک ایسی چیز کے درپے ہوا جس کا اسے کوئی علم نہیں۔(صحیح بخاري كتاب بدء الخلق باب في النجوم) اسی طرح فرمایا جس نے نجوم کے ذریعہ سے کچھ سیکھا اس نے جادو کا ایک حصہ پایا۔(سنن ابي داود كتاب الطب باب في النجوم) پھر حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ سورج اور چاند کے گرہن کا کسی کی موت وحیات سے کوئی تعلق نہیں۔(صحیح بخاری کتاب الجمعة باب الصلاة في كشوف الشَّمْسِ) لیکن سورج اور چاند کے گرہنوں کو حضور ﷺ نے اپنے مہدی کے مبعوث ہونے کے دو بے مثل نشان قرار دیا، جو اپنے وقت پر پوری شان کے ساتھ پورے ہوئے اور مسیح محمدی کی صداقت پر اپنی مہر تصدیق ثبت کر گئے۔(سنن دار قطني كتاب العيدين باب صفة صلاة الْخُسُوفِ وَالْكُسُوفِ وَهَيْئَتِهِمَا) قرآن و حدیث کی ان تعلیمات کے روشنی میں علمائے امت اجرام فلکی کی خدائی مشیئت کے بغیر از خود زمینی حوادث پر اثر ڈالنے کی تاثیرات کے عقیدہ کو شرک قرار دیتے ہیں۔نیز ان اجرام فلکی کی حرکات و سکنات سے غیب کی خبریں معلوم کرنے کے نظریہ کو شیطانی اور گناہ کبیرہ قرار دیتے ہیں۔تاہم ان کی رفتار و حرکات کے ذریعہ وقت اور زمانہ کے تعین اور موسموں وغیرہ کی تبدیلی کے قائل ہیں۔حضرت اقدس محمد مصطفی ایم کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریرات میں اجرام فلکی کا نہایت بصیرت افروز ذکر فرمایا ہے۔چنانچہ اس بارہ میں مخالفین کے ایک اعترض کا جواب دیتے ہوئے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہم یہ عقیدہ نہیں رکھتے کہ سورج، چاند اور ستاروں میں سے کوئی ایک بھی اپنے فعل میں مستقلاً آزاد اور ذاتی طور پر مؤثر ہے یا اسے افاضہ تاثیرات میں کوئی اختیار ہے یا انوار کے پہنچانے اور بارشوں کو برسانے اور ابدان، اجسام اور ثمرات کی نشو و نما میں انہیں بالا رادہ کوئی دخل ہے۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اشیاء کے خواص ایک حقیقت ہیں اور ان میں اس علیم و حکیم خدا کے اذن سے جس نے 7