بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 4 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 4

کے کھلنے اور مسلط ہونے کا زمانہ ہے جو قرونِ ثلاثہ کے بعد شروع ہوتا اور چودھویں صدی کے سر پر ختم ہو جاتا ہے۔اور پھر ساتواں ہزار خدا اور اس کے مسیح کا اور ہر ایک خیر و برکت اور ایمان اور صلاح اور تقویٰ اور توحید اور خدا پرستی اور ہر ایک قسم کی نیکی اور ہدایت کا زمانہ ہے۔اب ہم ساتویں ہزار کے سر پر ہیں۔اس کے بعد کسی دوسرے مسیح کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں کیونکہ زمانے سات ہی ہیں جو نیکی اور بدی میں تقسیم کئے گئے ہیں۔اس تقسیم کو تمام انبیاء نے بیان کیا ہے۔کسی نے اجمال کے طور پر اور کسی نے مفضل طور پر اور یہ تفصیل قرآن شریف میں موجود ہے جس سے مسیح موعود کی نسبت قرآن شریف میں سے صاف طور پر پیشگوئی نکلتی ہے۔اور یہ عجیب بات ہے کہ تمام انبیاء اپنی کتابوں میں مسیح کے زمانہ کی کسی نہ کسی پیرایہ میں خبر دیتے ہیں اور نیز دجالی فتنہ کو بھی بیان کرتے ہیں۔اور دنیا میں کوئی پیشگوئی اس قوت اور تواتر کی نہیں ہو گی جیسا کہ تمام نبیوں نے آخری مسیح کے بارہ میں کی ہے۔“ لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 184 تا186) ایک اور جگہ آپ فرماتے ہیں: تمام نبیوں کی کتابوں سے اور ایسا ہی قرآنِ شریف سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے آدم سے لے کر اخیر تک دنیا کی عمر سات ہزار برس رکھی ہے اور ہدایت اور گمراہی کے لئے ہزار ہزار سال کے دور مقرر کئے ہیں۔یعنی ایک وہ دور ہے جس میں ہدایت کا غلبہ ہوتا ہے اور دوسرا وہ دور ہے جس میں ضلالت اور گمراہی کا غلبہ ہوتا ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا خدا تعالیٰ کی کتابوں میں یہ دونوں دور ہزار ہزار برس پر تقسیم کئے گئے ہیں۔۔۔پھر ہزار پنجم کا دور آیا جو ہدایت کا دور تھا۔یہ وہ ہزار ہے جس میں ہمارے نبی الم مبعوث ہوئے اور خدا تعالیٰ نے آنحضرت الله العلم کے ہاتھ پر توحید کو دوبارہ دنیا میں قائم کیا۔پس آپ کے منجانب اللہ 4