بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 617 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 617

یتیم بچوں کے لئے ماں کا دودھ مہیا کرنے کے لئے Milk Bank کا قیام سوال: قادیان سے ایک دوست نے Milk Bank جہاں سے یتیم بچوں کے لئے ماں کا دودھ مہیا کیا جاتا ہے کا ذکر کر کے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ اس طرح تو وہاں کا دودھ پینے والے بچے آپس میں رضاعی بہن بھائی بن جاتے ہوں گے لیکن یہ پتہ نہیں چل سکتا کہ کون کس کا رضاعی بھائی یا بہن ہے۔کیا اسلام میں اس طرح کے Milk Bank قائم کرنے کی اجازت ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 12 اکتوبر 2021ء میں اس سوال کے بارہ میں درج ذیل رہنمائی فرمائی۔حضور انور نے فرمایا: جواب: اسلامی تعلیم کے مطابق ایک ماں کا دودھ پینے والے بچوں کا باہم رضاعت کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے ایسے بچوں اور بچیوں کی آپس میں شادی نہیں ہو سکتی جنہوں نے ایک ماں کا دودھ پیا ہو۔لہذا اگر کسی جگہ ضرورت کے تحت یتیم بچوں کو ماں کے دودھ کی سہولت مہیا کی جائے تو اس کا انتظام کرنے والے ادارہ یا حکومت کو بہت زیادہ احتیاط کرنی پڑے گی اور اُس کے لئے لازمی ہو گا کہ وہ اس چیز کا بھی ریکارڈ رکھے کہ کس بچہ کو کس عورت کا دودھ پلایا گیا ہے۔جو بظاہر ناممکن ہو گا۔لہذا میرے نزدیک تو شریعت اسلامی کی رُو سے اس طرح کے Milk Bank کا اجراء درست نہیں کیونکہ اس سے کئی قسم کے ابہام اور مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔اور ویسے بھی اس زمانہ میں اس طرز کے Milk Bank کی ضرورت ہی کیا ہے جبکہ مارکیٹ میں بیسیوں قسم کے Formula Milk دستیاب ہیں۔اگر کسی ادارہ یا حکومت کو یتیم بچوں کی پرورش کا اتنا ہی احساس ہے تو وہ ایسے بچوں کے لئے اس Formula Milk کی سہولت مہیا کر سکتے ہیں۔بہر حال میں اس بارہ میں مزید تحقیق کروا رہا ہوں لیکن فی الحال تو میرا یہی نظریہ ہے کہ آپ کے خط میں بیان MilkBank کے اجراء کا طریق اسلامی تعلیم کے مطابق درست نہیں ہے۔617