بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 618 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 618

بعد ازاں حضور انور نے اس مسئلہ پر دارالافتاء ربوہ کے ذریعہ تحقیق کروا کر اپنے مکتوب مؤرخہ 17 اگست 2022ء میں سوال کرنے والے دوست کو مزید درج ذیل ہدایت سے بھی نوازا۔حضور انور نے فرمایا: میں نے اس معاملہ پر دار الافتاء ربوہ کے ذریعہ تحقیق کروائی ہے۔اس تحقیق کے مطابق اسلامی تعلیمات کی رو سے عورتوں کے دودھ کا Milk Bank قائم کرنا اور اس کے ذریعہ بچوں کو دودھ مہیا کرنا درست نہیں، کیونکہ اسلام نے رضاعت کی بناء پر قائم ہونے والے رشتوں کا اس حد تک تقدس قائم فرمایا ہے کہ ان رشتوں کی آپس میں شادی کی اُسی طرح ممانعت فرمائی، جس طرح نسب کی بناء پر محرم رشتوں کی باہم شادی کی ممانعت فرمائی ہے۔جبکہ اس قسم کے Milk Bank سے ملنے والے دودھ کے بارہ میں کچھ پتہ نہیں چلتا کہ ایک دودھ کے پیکٹ میں کتنی اور کن کن عورتوں کا دودھ ہے۔اور اگر ان عورتوں کی اس پیکٹ پر تفصیل درج بھی کر دی جائے، تو اس دودھ کو پینے والے بچوں کے بے شمار رضائی بہن بھائی بن جائیں گے ، جن کا حساب رکھنا اور ان سے شادی کے معاملہ میں احتیاط برتنا بظاہر ناممکن ہو جائے گا۔لہذا اگر کسی بچہ کو ماں کے دودھ کی ضرورت ہو تو اس کے لئے جس طرح اسلام نے رضاعی ماں کے طریق کو جاری فرمایا ہے، اسی طریق کو اختیار کرنا چاہیئے۔لیکن اگر کسی جگہ اس کی سہولت موجود نہ ہو تو پھر عورتوں کے دودھ کے MilkBank سے ملنے والے دودھ کے استعمال کا تکلف کر کے رشتوں کو مشتبہ بنانے کی بجائے عام گائے، بھینس یا مصنوعی دودھ کے پیکٹوں کے دودھ کو استعمال کرنا چاہیئے تاکہ اسلام نے جن رشتوں کے تقدس کو قائم فرمایا ہے اس کی پوری طرح پابندی ہو سکے۔(قسط نمبر 45، الفضل انٹر نیشنل 16 دسمبر 2022ء صفحہ 11) 618