بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 2 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 2

کے ذریعہ ہی ہو سکتا تھا۔کیونکہ سورۃ جمعہ کی آیت وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعة : 4) یعنی اللہ تعالیٰ ان کے سوا ایک دوسری قوم میں بھی اسے بھیجے گا جو ابھی تک ان (صحابہ) سے نہیں ملی، میں اس مسیح و مہدی کے آنے کو اللہ تعالیٰ نے حضور الم کا آنا قرار دیا تھا۔اور حضور ایل ایلیم نے اس آیت کے نزول کے وقت صحابہ کے دریافت کرنے پر حضرت سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ جب ایمان ثریا ستارے پر اٹھ جائے گا تو اہل فارس میں سے ایک شخص یا بہت سے اشخاص ایمان کو دوبارہ دنیا میں قائم کریں گے۔(صحيح بخاري كتاب التفسير سورة الجمعة) گویا رسول اللہ ﷺ نے اہل فارس کے اس مرد کے آنے کو اپنا آنا قرار دیا جس کے ذریعہ آخری زمانہ میں ایمان کا دنیا میں قیام اور اسلام کی دوبارہ شان مقدر تھی۔ایک صاحب کشف بزرگ حضرت نعمت اللہ ولی صاحب اپنے مشہور فارسی قصیدہ میں آخری زمانہ کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب نین رے ( یعنی 1200 سال) گزر جائیں گے اس وقت مجھے عجیب و غریب واقعات ظاہر ہوتے نظر آتے ہیں۔مہدی وقت اور عیسی دوراں ہر دو کو میں شاہسوار ہوتے دیکھتا ہوں۔( الاربعین فی احوال المہد بین مرتبہ محمد اسماعیل شہید صفحه 2 و4، مطبوعہ 1268 ہجری) حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی المتوفی 1176 ہجری لکھتے ہیں۔عَلَّمَنِي رَبِّي جَلَّ جَلَالُهُ أَنَّ الْقَيَامَةَ قَدِ اقْتَرَبَتْ وَالْمَهْدِيُّ تَهَيَّأَ لِلْخُرُوجِ یعنی خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ قیامت قریب آچکی ہے اور مہدی کا ظہور ہوا چاہتا ہے۔( التفہیمات الالہیہ ، جلد 2 صفحہ 133 تفہیم نمبر 147، مطبوعہ 1936ء مدینہ برقی پریس بجنور یوپی) علاوہ ازیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی متعدد جگہوں پر اس مضمون کو بڑی وضاحت کے ساتھ مدلّل طور پر بیان فرمایا ہے کہ یہی وہ آخری زمانہ ہے جس میں امت محمدیہ کی اصلاح کے لئے مسیح موعود اور مہدی معہود کی بعثت مقدر تھی۔چنانچہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہمارا عقیدہ جو قرآن شریف نے ہمیں سکھلایا ہے یہ ہے کہ خدا ہمیشہ سے خالق ہے اگر چاہے تو کروڑوں مرتبہ زمین و آسمان کو فنا کر کے پھر ایسے ہی بنادے اور اُس نے ہمیں خبر دی ہے کہ وہ آدم جو پہلی امتوں کے بعد آیا جو ہم سب کا باپ تھا اس کے دنیا میں آنے کے وقت سے یہ 2