بنیادی مسائل کے جوابات — Page 612
وقف أو سوال : گلشن وقف نولجنه و ناصرات میلبرن آسٹریلیا مؤرخہ 12 اکتوبر 2013ء میں ایک ممبر لجنہ اماء اللہ نے حضور انور سے دریافت کیا کہ واقفات نولجنہ کی جب شادی ہوتی ہے اور ہمارے اوپر گھر کی، فیملی کی اور بچوں کی ذمہ داری آتی ہے تو اس وقت ہم اپنے وقف نو ہونے کا Role صحیح طریقہ سے کیسے ادا کر سکتی ہیں؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس کا جواب درج ذیل الفاظ میں عطا فرمایا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: وقف نو ہونے کا Role صحیح طریقہ سے ادا کرنے کے لئے پہلے تو جو پانچ نمازیں فرض ہیں ان کو اچھی طرح پڑھو۔اگر تہجد پڑھ سکتی ہو تو وہ پڑھو۔قرآن شریف پڑھو اور اس کا ترجمہ پڑھو۔اگر لجنہ کا کوئی کام تمہارے سپرد ہوتا ہے تو وہ جس حد تک ہوتا ہے وہ کرو۔پھر سب سے بڑی ذمہ واری یہ ہے کہ جو بچے ہیں ان کی ایسی تربیت کرو کہ ان کا اللہ سے تعلق پیدا ہو جائے۔خاوند کو یہ Realise کرواؤ کہ میں وقف تو ہوں اور میرا کام یہ ہے کہ اپنی بھی تربیت کرنا اور اپنے گھر کی بھی تربیت کرنا، اپنے بچوں کی تربیت کرنا۔اس لئے تم بھی اس میں میر اساتھ دو۔کیونکہ اگر باپ اپنا Role Play نہ کر رہا ہو تو پھر بچوں کی تربیت صحیح نہیں ہوتی۔تو سب سے بڑی ذمہ داری گھر کی ہے۔اور تم لوگوں کے لئے یہی بڑا ثواب ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ ایک عورت آنحضرت ام کے پاس آئی اور اس نے کہا کہ ہمارے جو خاوند ہیں جہاد پر بھی جاتے ہیں اور کماتے ہیں اور چندے بھی دیتے ہیں اور مرد باہر بہت سارے ایسے کام کرتے ہیں جو ہم عورتیں گھروں میں نہیں کر سکتیں۔تو ہمیں جو جہاد کا اور چندے دینے کا یہ ثواب ہے ، یہ سارا ہمیں بھی ملے گا؟ آنحضرت لم نے فرمایا کہ ہاں کیونکہ تم ان کے گھر کی اچھی طرح نگرانی کرتی ہو ، ان کے بچوں کی تربیت کرتی ہو ، ان کے پیچھے ان کے گھروں کو Look after کرتی ہو۔اور پھر جو اس وجہ سے نیک نسل پیدا ہو رہی ہے، تمہیں بھی اتنا ہی ثواب ملے گا۔اور پھر یہ بھی برداشت کرتی ہو کہ اپنے خاوندوں کو بھیجتی ہو کہ جاؤ دینی خدمت کرو۔اگر تمہارا خاوند دنیا کی خدمت بھی کر رہا ہے ، دین کی نہیں بھی کر رہا تو یہ بھی حدیث میں ہے کہ عورت جو ہے وہ اپنے 612