بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 589 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 589

دوران نماز باجماعت کے وقت مقرر کر سکیں۔چنانچہ حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ لی لی مین نے فرمایا ہر نماز کا ایک اول وقت ہے اور ایک آخری وقت۔ظہر کی نماز کا اوّل وقت سورج کا ڈھلنا ہے اور آخری وقت جب عصر کا وقت شروع ہو جائے۔اور عصر کا اوّل وقت جب یہ وقت شروع ہو جائے اور آخری وقت جب سورج زرد ہو جائے۔مغرب کا اول وقت غروب آفتاب پر ہے اور آخری وقت شفق کا غائب ہونا ہے۔اور عشاء کا اول وقت شفق کے غائب ہونے پر اور آخری وقت آدھی رات تک ہے اور فجر کا اول وقت صبح صادق کے طلوع ہونے پر ہے اور آخری وقت سورج کا طلوع ہونا ہے۔(سنن ترمذي كتاب الصلاة باب مَا جَاءَ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ) اسی طرح سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ایم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ سے نمازوں کا وقت دریافت کیا۔حضور اللہ ہم نے اسے فرمایا کہ تم دو دن ہمارے پاس رہو۔پھر حضور اللہ ﷺ نے حضرت بلال کو حکم دیا اور انہوں نے طلوع فجر کے ساتھ تکبیر کہی اور حضور لم نے فجر کی نماز پڑھائی۔پھر جب سورج ڈھل گیا تو آپ نے حضرت بلال کو تکبیر کہنے کا حکم دیا اور پھر آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی۔پھر ان کو اس وقت حکم دیا جس وقت سورج سفید تھا اور عصر کی نماز ادا فرمائی۔پھر سورج غروب ہونے پر انہیں حکم دیا اور نماز مغرب ادا فرمائی۔پھر جس وقت شفق غروب ہو گیا ان کو حکم دیا اور نماز عشاء ادا فرمائی۔پھر دوسرے دن ان کو حکم دیا اور نماز فجر روشنی میں ادا فرمائی اور نماز ظہر خوب ٹھنڈے وقت میں ادا فرمائی۔پھر آپ نے نماز عصر ادا فرمائی جبکہ سورج کی سفیدی موجود تھی لیکن پہلے روز سے تاخیر فرمائی۔پھر شفق غروب ہونے سے قبل نماز مغرب ادا فرمائی۔پھر جب رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا تو آپ نے حضرت بلال کو حکم دیا تو انہوں نے نماز عشاء کی تکبیر کہی اور آپ نے نماز عشاء ادا فرمائی۔اس کے بعد آپ نے نمازوں کا وقت دریافت کرنے والے کے بارہ میں پوچھا اور اسے فرمایا کہ تمہاری نمازوں کے وقت ان وقتوں کے درمیان کے ہیں جو تم نے دیکھے ہیں۔(سنن نسائی کتاب المواقيت باب أَوَّلُ وَقْتِ الْمَغْرِبِ) نماز فجر کے وقت کے بارہ میں احادیث صحیحہ سے پتہ چلتا ہے کہ حضور ام عموماً طلوع فجر کے اتنے وقت بعد فجر کی نماز پڑھاتے تھے جس وقت میں ایک انسان پچاس ساٹھ آیتیں پڑھ لیتا ہے۔اور 589