بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 571 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 571

سوال : ایک اور مسئلہ کہ ” اگر امام کسی مجبوری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدیوں کو کس طرح نماز پڑھنی چاہیئے ؟ " کے بارہ میں بھی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے رہنمائی فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: رض جواب: احادیث میں اس بارہ میں بڑی وضاحت کے ساتھ حضور الم کے اسوہ کا پتہ چلتا ہے۔چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ اور حضرت انسؓ سے مروی احادیث میں ذکر ہے کہ حضور لم اپنے اوائل زمانہ میں ایک مرتبہ گھوڑے سے گر گئے اور حضور لم نے نماز بیٹھ کر پڑھائی، صحابہ آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے تو آپ الی ٹیم نے انہیں اشارہ سے بیٹھ جانے کا ارشاد فرمایا اور نماز کے بعد انہیں فرمایا کہ امام اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے۔پس جس طرح وہ نماز پڑھے اسی طرح تم نماز پڑھو۔لیکن حضور الم کی آخری بیماری میں جس میں آپ کا وصال ہوا، آپ نے حضرت ابو بکر کو نماز کی امامت کا ارشاد فرمایا اور پھر جب حضور ﷺ کی طبیعت کچھ سنبھل گئی تو آپ نماز کے لئے تشریف لے گئے اور حضرت ابو بکر کے بائیں جانب بیٹھ کر نماز ادا فرمائی۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اس وقت حضرت ابو بکر اس نماز میں حضور لم کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ حضرت ابو بکر کی اقتداء کر رہے تھے۔دراصل لوگ بھی حضور الم کی ہی اقتداء کر رہے تھے۔لیکن علالت کی وجہ سے حضور ا یہ تم چونکہ بلند آواز میں تکبیر وغیرہ نہیں کہہ پا رہے تھے، اس لئے حضرت ابو بکر مکبر کے طور پر حضور ا کی آواز آگے لوگوں تک پہنچارہے تھے۔یہاں یہ بات بھی خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ حضور اہل علم کا حضرت ابو بکر کے بائیں طرف بیٹھنا بتاتا ہے کہ حضور ام اس نماز میں امام تھے ، کیونکہ امام بائیں طرف ہوتا ہے اور مقتدی دائیں طرف۔چنانچہ اس بارہ میں بھی ہمیں حضور اسلم کی سنت ملتی ہے کہ ایک موقعہ پر جب کہ حضور اللام تہجد کی نماز ادا کر رہے تھے تو حضرت ابن عباس بعد میں نماز میں شامل ہو کر آپ ای ی ی یکم کی بائیں طرف کھڑے ہو گئے تو حضور لم نے انہیں سر سے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر لیا۔حضرت امام بخاری نے اپنے استاد حمیدی کا اس بارہ میں قول درج کیا ہے کہ حضور الم کا پہلا ارشاد یہی تھا کہ اگر امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو مقتدی بھی بیٹھ کر ہی نماز پڑھیں۔لیکن بعد میں 571