بنیادی مسائل کے جوابات — Page 569
نماز سوال : ایک دوست نے سوال کیا کہ نماز میں التحیات پڑھتے وقت جب ہم "السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِي کہتے ہیں تو کہیں ہم شرک کے مرتکب تو نہیں ہو رہے ہوتے کیونکہ یہ الفاظ تو زندہ انسانوں کے لئے بولے جاتے ہیں؟ اس سوال کا جواب عطا فرماتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 06 جون 2018ء میں فرمایا: جواب: مستند احادیث سے ثابت ہے کہ تشہد میں پڑھی جانے والی یہ دعا آنحضور ا لم نے خود صحابہ کو سکھائی اور فرمایا کہ جب تم یہ دعا کرو گے تو تمہاری یہ مناجات زمین و آسمان میں موجود اللہ کے ہر نیک بندہ تک پہنچ جائیں گی۔(صحيح بخاري كتاب الاذان) گویا حضور الم نے خود یہ وضاحت فرما دی کہ تمہاری یہ دعا زندہ لوگوں کو بھی پہنچ رہی ہے اور جو وفات پاچکے ہیں انہیں بھی تمہاری دعا کی برکتیں مل رہی ہیں۔پس اس قسم کی دعاؤں میں جو مخاطب کا صیغہ یا حرف ندا و غیرہ استعمال ہوتا ہے، اس سے کسی قسم کے وہم میں مبتلا نہیں ہونا چاہیئے کہ ہماری دعا کا مخاطب تو فوت ہو چکا ہے، اس لئے کہیں یہ شرک نہ شمار ہو۔اس میں شرک والی کوئی بات نہیں، کیونکہ جس طرح اس دنیا میں ایک شخص کی آواز کو دوسرے شخص تک پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ذریعہ بنایا ہے، اسی طرح روحانی دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہماری مناجات کو فوت شدگان تک پہنچانے کے لئے اپنے فرشتوں کو ذریعہ بنایا ہے۔چنانچہ جب ہم قبرستان جاتے ہیں تو وہاں پر جو دعا پڑھتے ہیں ، اس کی ابتداء بھی السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ سے ہی ہوتی ہے، جس کا قطعا یہ مطلب نہیں کہ ہم ان مردوں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں یا وہ ہمارے سامنے موجو د ہوتے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُوْرِ جو کہا جاتا ہے کیا اسے مردے سنتے ہیں؟ اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”دیکھو ! وہ سلام کا جواب وعلیکم السلام تو نہیں دیتے، خدا تعالیٰ وہ سلام 569