بنیادی مسائل کے جوابات — Page 550
نعماء جنّت سوال: ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمتِ اقدس میں لکھا کہ بعض آزاد خیال اور نام نہاد حقوق نسواں کی علم بردار خواتین کا اسلام کے خلاف ایک اعتراض یہ ہے کہ قرآن و احادیث میں مردوں کو جنت میں ملنے والی نعماء از قسم شراب، مختلف الانواع، کھانے اور عورتوں کے ملنے کا وعدہ ہے، جبکہ اس دنیا میں جو شخص ان چیزوں کو استعمال کرے وہ بُرا انسان کہلاتا ہے۔اسی طرح یہ وعدے صرف مردوں کے لئے ہیں اور عور تیں اس دنیا میں جو کچھ بھی کر لیں ان کے لئے ایسا کوئی وعدہ نہیں ہے۔اس بارہ میں تفصیلی جواب کی درخواست ہے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 22 مارچ 2021ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: اصل بات یہ ہے کہ اس قسم کے اعتراضات اسلام کی نہایت خوبصورت تعلیم سے کلیاً ناواقفیت کی وجہ سے پید اہوتے ہیں۔ظاہر ہے اسلام مخالفین تو اسلام کی تعلیم کو نہ جاننے کی وجہ سے ایسے اعتراضات کرتے ہیں لیکن افسوس اور تکلیف کی بات یہ ہے کہ بہت سے مسلمان کہلانے والے لوگ بھی چونکہ صرف نام کے مسلمان ہوتے ہیں اور قرآن و حدیث میں بیان مذہبی تعلیم کا حصول ضروری نہیں سمجھتے اور مادی دنیا ان کے دل و دماغ پر اس طرح حاوی ہوتی ہے کہ اسی کی چمک دمک کے پیچھے اپنی ساری زندگی گنوا دیتے ہیں اور زندگی کے اصل مقصد اور مدعا عبودیت خداوندی کو بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں۔اور اُخروی زندگی کی نہایت مصفیٰ اور پاکیزہ نعماء کو بھی اسی دنیوی زندگی کے میلے کچیلے آئینہ میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس لئے پھر اس قسم کے اعتراضات ان کے دلوں میں جنم لیتے ہیں۔قرآن کریم میں بیان جنت کی نعماء کو تمثیل کے رنگ میں جہاں اس دنیا کی مختلف اشیاء کے ناموں سے بیان کیا گیا ہے وہاں جنت کی ان نعماء کو ہر قسم کی آلائش اور بد اثر سے پاک بھی قرار دیا گیا۔چنانچہ قرآن کریم نے جنت میں ملنے والی مختلف اقسام کی شراب ہائے طہور کو کئی ناموں اور کیفیتوں کے ساتھ بیان کیا ہے جو عقل ، نشاط اور عشق الہی پیدا کرتی ہیں۔خوشبو دار ، معطر اور پاک ہیں۔اور جو لوگ انہیں پیتے ہیں وہ نا قابل بیان روحانی نشہ سے مسرور ہو جاتے 550