بنیادی مسائل کے جوابات — Page 547
وو روح اور جسم کا تعلق بیان کرتے ہوئے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: روح اور جسم کا ایک ایسا تعلق ہے کہ اس راز کو کھولنا انسان کا کام نہیں۔اس سے زیادہ اس تعلق کے ثبوت پر یہ دلیل ہے کہ غور سے معلوم ہوتا ہے کہ روح کی ماں جسم ہی ہے۔حاملہ عورتوں کے پیٹ میں روح کبھی اوپر سے نہیں گرتی بلکہ وہ ایک نور ہے جو نطفہ میں ہی پوشیدہ طور پر مخفی ہوتا ہے اور جسم کی نشوو نما کے ساتھ چمکتا جاتا ہے۔“ حضور علیہ السلام مزید فرماتے ہیں: اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 321) ”خدا نے آدم میں اس کی پیدائش کے ساتھ ہی اپنی روح پھونک کر اس کی فطرت کو اپنے ساتھ ایک تعلق قائم کر دیا۔سو یہ اس لئے کیا گیا کہ تا انسان کو فطر تأخدا سے ایک تعلق پیدا ہو جاوے۔،، ریویو آف ریلیجنز جلد 1 نمبر 5 ، مئی 1902ء صفحہ 178) انسان میں روحانی اور جسمانی طور پر روح کے ڈالے جانے کی بابت حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ثُمَّ انْشَانَهُ خَلْقًا أَخَرَ فَتَبَرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخُلِقِيْنَ۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ جب ہم ایک پیدائش کو طیار کر چکے تو بعد اس کے ہم نے ایک اور پیدائش سے انسان کو پیدا کیا۔اور کے لفظ سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ وہ ایسی فوق الفہم پیدائش ہے جس کا سمجھنا انسان کی عقل سے بالا تر ہے اور اُس کے فہم سے بہت دور یعنی روح جو قالب کی طیاری کے بعد جسم میں ڈالی جاتی ہے وہ ہم نے انسان میں روحانی اور جسمانی دونوں طور پر ڈال دی جو مجہول الکنہ ہے اور جس کی نسبت تمام فلسفی اور اس مادی دنیا کے تمام مقلد حیران ہیں کہ وہ کیا چیز ہے۔۔۔پس اللہ تعالیٰ اس جگہ فرماتا ہے کہ ”روح“ بھی خدا کی پیدائش ہے مگر دنیا کے فہم سے بالا تر ہے۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 217،216) 547