بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 532 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 532

حضرت عائشہ کی ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ چار چیزوں کی وجہ سے غسل فرمایا کرتے تھے ، جنابت کی وجہ سے، جمعہ کے روز ، سینگی لگوانے سے اور مردہ کو غسل دے کر۔لیکن اس مضمون کی روایات کو علماء حدیث نے ضعیف اور منسوخ قرار دیا ہے۔نیز کہا ہے کہ غنسل سے مراد صرف ہاتھوں کا دھونا ہے۔فقہاء اربعہ کے نزدیک بھی میت کو غسل دینے کے بعد غسل کرنا واجب نہیں، صرف مستحب ہے۔تا کہ میت کو غسل دینے کی وجہ سے اگر انسان کو کوئی گندگی لگ گئی ہو یا گندے پانی کے چھینٹے انسان کے بدن پر پڑ گئے ہوں تو غسل کے نتیجہ میں اس کی صفائی ہو جائے۔پس جب میت کو غسل دینے کی وجہ سے نہلانے والے پر غسل واجب نہیں ہوتا تو میت کو چھونے والے پر کس طرح غسل واجب ہو سکتا ہے۔لہذا میت کو غسل دینے والا بغیر غسل کے نماز جنازہ میں شامل ہو سکتا ہے، اس میں کوئی ممانعت نہیں۔ہاں فقہاء نے یہ لکھا ہے کہ جس طرح باقی نمازوں کے لئے وضوء ضروری ہے اسی طرح نماز جنازہ کے لئے بھی وضوء کرنا ضروری ہے ، وہ اسے کرنا چاہیئے۔(قسط نمبر 42، الفضل انٹر نیشنل 4 نومبر 2022ء صفحہ 10) 532