بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 531 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 531

میت کو چھونا سوال: گھانا سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ اگر کسی نے میت کو چھوا ہو تو کیا اس کے لئے غسل جنابت کرنا فرض ہے اور کیا وہ غسل جبابت کئے بغیر نماز جنازہ میں شامل ہو سکتا ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 25 اگست 2021ء میں اس مسئلہ کے بارہ میں درج ذیل رہنمائی فرمائی۔حضور انور نے فرمایا: جواب: حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ حضور ا نے فرمایا: لَيْسَ عَلَيْكُمْ فِي غَسْلِ مَيّتِكُمْ غُسْلٌ إِذَا غَسَلْتُمُوهُ فَإِنَّ مَيْتَكُمْ لَيْسَ بِنَجَسٍ فَحَسْبُكُمْ أَنْ تَغْسِلُوا أَيْدِيَكُمْ (المستدرك علي الصحيحين للحاكم كتاب الجنائز باب ليس عليكم في غسل ميتكم غسل) یعنی جب تم اپنے کسی مردہ کو غسل دو تو اس کے بعد تم پر غسل واجب نہیں۔کیونکہ تمہارے مردے نجس نہیں ہیں۔مُردہ کو غسل دینے کے بعد تمہارا ہاتھ دھو لینا کافی ہے۔اسی طرح موطا امام مالک میں حضرت اسماء بنت عمیس کے بارہ میں آتا ہے کہ جب انہوں نے اپنے خاوند حضرت ابو بکر صدیق کی وفات پر انہیں غسل دیا تو غسل دینے کے بعد وہاں موجود مہاجرین سے پوچھا کہ کیا اب میرے لئے غسل کرنا ضروری ہے؟ تو اس کے جواب میں ان لوگوں نے کہا کہ نہیں۔(موطا امام مالك كتاب الجنائز بَابٍ غُسْلِ الْمَيِّت) حضرت عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ ہم مردہ کو غسل دیا کرتے تھے۔پھر ہم میں سے بعض خود غسل کر لیتے تھے اور بعض غسل نہیں کرتے تھے۔(سنن دارقطني كتاب الجنائزباب التَّسْلِيمُ فِي الْجَنَازَةِ وَاحِدٌ وَالتَّكْبِيرُ أَرْبَعًا وَخَمْسًا) ان احادیث کے مقابل پر سنن ابی داؤد میں مروی حضرت ابو ہریرہ کی ایک روایت میں یہ ذکر آتا ہے کہ حضور اﷺ نے فرمایا کہ جو مردہ کو غسل دے اسے چاہیے کہ غسل کرے۔اسی طرح 531