بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 530 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 530

نفلی روزہ رکھنے کی حدیث کا تعلق ہے تو اس میں حکمت یہ ہے کہ اسلام نے میاں بیوی کے حقوق و فرائض کا ہر موقعہ پر خیال رکھا ہے۔چنانچہ میاں بیوی کے حقوق و فرائض کی تقسیم میں گھر سے باہر کی تمام تر ذمہ داریوں کی ادائیگی اور بیوی بچوں کے نان و نفقہ کی فراہمی وغیرہ اللہ تعالیٰ نے خاوند کے سپرد کی ہے اور گھریلو ذمہ داریاں (جن میں گھر کے مال کی حفاظت، خاوند کی ضروریات کی فراہمی اور بچوں کی پرورش وغیرہ شامل ہیں) اللہ تعالیٰ نے بیوی کو سونپی ہیں۔پس جب خاوند اپنے فرائض کی ادائیگی کے لئے گھر سے باہر جائے تو بیوی کو گھریلو فرائض کی ادائیگی کے ساتھ نفلی عبادت بجالانے کی کھلی چھٹی ہے۔لیکن خاوند کی موجودگی میں چونکہ اس کی ضروریات کی فراہمی بیوی کے فرائض میں شامل ہے۔اس لئے فرمایا کہ خاوند کے حقوق کی ادا ئیگی میں سے اگر بیوی کچھ رخصت چاہتی ہو تو اسے خاوند کی اجازت سے ایسا کرنا چاہیئے۔چنانچہ اس حکم کی حکمت حدیث میں بیان ایک واقعہ سے بخوبی معلوم ہو جاتی ہے۔حضرت ابو سعید روایت کرتے ہیں کہ حضرت صفوان بن معطل (جو رات بھر کھیتوں پر کام کرتے تھے اور دن کے وقت گھر پر ہوتے تھے) کی بیوی نے حضور الم کی خدمت میں شکایت کی کہ جب میں نفلی روزہ رکھتی ہوں تو میرا خاوند میر اروزہ تڑوا دیتا ہے۔حضور لم کے دریافت کرنے پر حضرت صفوان نے عرض کیا کہ جب یہ روزے رکھتی ہے تو رکھتی چلی جاتی ہے اور چونکہ میں جوان آدمی ہوں اس لئے صبر نہیں کر سکتا۔راوی کہتے ہیں کہ اس دن حضور الم نے فرمایا کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے۔(سنن ابی داؤد کتاب الصوم) پس خلاصہ کلام یہ کہ اسلامی تعلیمات میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کے تمام حقوق جن میں جنسی تعلقات بھی شامل ہیں کی پوری دیانتداری کے ساتھ ادائیگی کی تلقین فرمائی گئی ہے اور کسی فریق کو یہ اجازت بھی نہیں دی گئی کہ وہ عبادت کو وجہ بنا کر دوسرے کے ان حقوق کو تلف کرے۔لہذا جو فریق کسی بھی رنگ میں دوسرے فریق کی حق تلفی کا مر تکب ہو گا وہ اللہ تعالیٰ کے حضور قصور وار متصور ہوگا۔(قسط نمبر 28، الفضل انٹر نیشنل 04 فروری 2022ء صفحہ 11) 530