بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 529 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 529

حضرت عثمان بن مظعونؓ سے ملے اور ان سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے) فرمایا کہ کیا تمہارے لئے میری ذات اُسوہ نہیں ہے؟ اس پر حضرت عثمان بن مظعون نے عرض کی کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔بات کیا ہے؟ جس پر حضور الم نے فرمایا کہ تم رات نماز پڑھتے ہوئے اور دن روزہ رکھ کر گزار دیتے ہو، جبکہ تمہارے گھر والوں کا بھی تم پر حق ہے اور تیرے جسم کا بھی تم پر حق ہے۔لہذا نماز پڑھا کرو لیکن سویا بھی کرو اور کبھی روزہ رکھو اور کبھی چھوڑ دیا کرو۔راوی کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ بعد یہی عورت دوبارہ ازواج مطہرات کے پاس آئیں تو انہوں نے خوب خوشبو لگائی ہوئی تھی اور دلہن کی طرح سجی سنوری ہوئی تھیں۔ازواج مطہرات نے انہیں دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واہ کیا بات ہے ! جس پر انہوں نے بتایا کہ اب ہمیں بھی وہ سب میٹر ہے جو باقی لوگوں کے پاس ہے۔(مجمع الزوائد کتاب النکاح باب حق المرأة علي الزوج) پھر مذکورہ بالا زیر نظر حدیث کے حوالہ سے یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ جائز عذر یا مجبوری کی بناء پر اس فعل سے انکار کی صورت میں کوئی فریق اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد نہیں ہو گا۔جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ حضور اللهم جب غزوہ تبوک پر تشریف لے گئے تو ایک صحابی جو سفر پر گئے ہوئے تھے ، اور حضور ام کے غزوہ کے لئے کوچ کر جانے کے بعد مدینہ واپس آئے۔اور اپنی بیوی کی طرف پیار کرنے کے لئے بڑھے ، جس پر اس بیوی نے یہ کہتے ہوئے انہیں پیچھے دھکیل دیا کہ تمہیں شرم نہیں آتی کہ حضور ﷺ تو اس قدر گرمی میں دشمن سے جنگ کے لئے تشریف لے گئے ہیں اور تمہیں پیار کرنے کی اور میرے پاس آنے کی پڑی ہوئی ہے۔(دیباچہ تفسیر القرآن صفحه 344،343 مطبوعہ 1948) پس اگر کوئی فریق کسی عذر یا مجبوری کی وجہ سے انکار کرتا ہے تو وہ کسی سزا کا مستوجب نہیں ہو گا۔لیکن اگر کوئی خاوند یا بیوی دوسرے فریق کے قریب آکر اس کے جذبات بھڑ کانے کے بعد اسے تنگ کرنے کی غرض سے اس سے دور ہو جاتا ہے تو یقینا ایسا کرنے والا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد ہو گا۔2۔جہاں تک خاوند کے گھر میں موجود ہونے کی صورت میں اس کی اجازت سے بیوی کے 529