بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 528 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 528

سوال : ایک خاتون نے خاوند بیوی کے حقوق و فرائض کے سلسلہ میں دو احادیث حضور ایڈہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں بھجوا کر دریافت کیا کہ کیا ان احادیث کا اطلاق خاوند پر بھی ہوتا ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 22 نومبر 2020ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا: جواب: پہلی حدیث جس میں بیان ہوا ہے کہ جب خاوند اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور بیوی کسی ناراضگی کی وجہ سے انکار کر دے تو فرشتے اس بیوی پر ساری رات لعنت بھیجتے ہیں۔یادرکھیں اس کا اطلاق صرف بیوی پر نہیں ہو تا بلکہ برعکس صورت میں خاوند پر بھی اس حدیث کا اطلاق ہو گا۔اس حدیث سے اگر کوئی پہلو نکل سکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ حضور الم نے مرد کی جنسی خواہش کے لئے بے صبری کی وجہ سے بیوی کو کسی جائز عذر کے بغیر انکار کرنے پر تنبیہ فرمائی ہے۔ورنہ جس طرح بیوی پر لازم ہے کہ وہ خاوند کے دیگر حقوق کے ساتھ اس کی جنسی ضرورت کو بھی پورا کرے اسی طرح خاوند کا فرض ہے کہ وہ بیوی کی دیگر ضروریات کے ساتھ اس کے جنسی حقوق بھی ادا کرے۔لہذا اگر کوئی خاوند اپنی بیوی کی خواہش پر بغیر کسی مجبوری کے اس کے جنسی حقوق ادا نہیں کرتا تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسی طرح قابل گرفت ہو گا جس طرح ایک بیوی بغیر کسی جائز عذر کے اپنے خاوند کی جنسی خواہش کی تکمیل سے انکار کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی مستوجب ہوتی ہے۔حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت عثمان بن مظعون کی بیوی حضور ﷺ کی ازواج کے پاس آئیں۔ازواج مطہرات نے ان کی بُری حالت دیکھ کر ان سے دریافت کیا کہ انہیں کیا ہوا ہے کیونکہ قریش میں ان کے خاوند سے زیادہ امیر آدمی اور کوئی نہیں ہے۔اس پر انہوں نے کہا کہ ہمیں تو اس سے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ میرے خاوند کا دن روزہ سے اور رات نماز پڑھتے گزرتی ہے۔پھر جب حضور لم اپنی ازواج کے پاس تشریف لائے تو ازواج مطہرات نے اس بات کا ذکر حضور الم سے کیا۔راوی کہتے ہیں کہ حضور ایلام 528