بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 526 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 526

میں اپنے تئیں ڈالتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے لئے اپنی جانوں کو ایک بھڑکتی ہوئی آگ میں گراتے ہیں اور طرح طرح کے آسمانی قضاء و قدر بھی نار کی شکل میں اُن پر وارد ہوتے ہیں۔وہ ستائے جاتے اور دکھ دیئے جاتے ہیں اور اس قدر بڑے بڑے زلزلے ان پر آتے ہیں کہ ان کے ماسوا کوئی ان زلازل کی برداشت نہیں کر سکتا اور حدیث صحیح میں ہے کہ تپ بھی جو مومن کو آتا ہے وہ نار جہنم میں سے ہے اور مومن بوجہ تپ اور دوسری تکالیف کے نار کا حصہ اسی عالم میں لے لیتا ہے۔اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ مومن کے لئے اس دنیا میں بہشت دوزخ کی صورت میں متمثل ہوتا ہے یعنی خدا تعالیٰ کی راہ میں تکالیف شاقہ جہنم کی صورت میں اس کو نظر آتی ہیں۔پس وہ بطیب خاطر اس جہنم میں وارد ہو جاتا ہے تو معاً اپنے تئیں بہشت میں پاتا ہے۔66 (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 142 تا145) دنیوی تکالیف اور آزمائشوں میں بہت سی الہی حکمتیں مخفی ہوتی ہیں، جن تک بعض اوقات انسانی عقل کی رسائی ممکن نہیں ہوتی۔پس انسان کو صبر اور دعا کے ساتھ ان کو برداشت کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: بعض وقت مصلحت الہی یہی ہوتی ہے کہ دنیا میں انسان کی کوئی مراد حاصل نہیں ہوتی۔طرح طرح کے آفات، بلائیں، بیماریاں اور نامر ادیاں لا حق حال ہوتی ہیں مگر ان سے گھبرانا نہ چاہیے۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 23، ایڈیشن 2016ء) (قسط نمبر 42، الفضل انٹر نیشنل 4 نومبر 2022ء صفحہ 10) 526