بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 522 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 522

میں بار بار ذکر آیا ہے اور بعض جسم نورانی اور بعض ظلمانی قرار دیئے ہیں جو اعمال کی روشنی یا اعمال کی ظلمت سے طیار ہوتے ہیں۔اگر چہ یہ راز ایک نہایت دقیق راز ہے مگر غیر معقول نہیں۔۔۔لیکن جن کو عالم مکاشفات میں سے کچھ حصہ ہے وہ اس قسم کے جسم کو جو اعمال سے طیار ہوتا ہے تعجب اور استبعاد کی نگہ سے نہیں دیکھیں گے بلکہ اس مضمون سے لذت اٹھائیں گے۔غرض یہ جسم جو اعمال کی کیفیت سے ملتا ہے یہی عالم برزخ میں نیک و بد کی جزاء کا موجب ہو جاتا ہے۔“ (اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 403 اور 405) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس اقتباس میں روح کے ایک قسم کے گڑھے میں پڑنے کا جو فرمایا ہے وہ دراصل سورۃ عبس کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے کہ ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَةُ (سورة عبس: 22) یعنی اللہ تعالیٰ ہر انسان پر موت وارد کرتا ہے اور پھر اسے قبر میں رکھتا ہے۔اب ظاہر ہے کہ دنیا میں ہر انسان کو مٹی کے ڈھیر والی قبر میسر نہیں آتی کیونکہ کروڑوں مردے جلائے جاتے ہیں اور دفن نہیں کئے جاتے۔لاکھوں انسان ڈوب کر مرتے ہیں۔ہزاروں انسانوں کو جنگل کے درندے کھا کر ختم کر دیتے ہیں۔تو پھر ہر انسان کے متعلق یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اسے خدا قبر میں رکھتا ہے ؟ یہاں قبر سے مراد وہ روحانی قیام گاہ ہے جہاں مرنے کے بعد اور کامل حساب کتاب سے پہلے انسان کی روح رکھی جاتی ہے۔(قسط نمبر 53، الفضل انٹر نیشنل 29 اپریل 2023ء صفحہ 4) 522