بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 511 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 511

ملک یمین سوال: بلاد عرب سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ ملک یمین سے کیا مراد ہے۔نیز طلاق کی صحیح شرائط کیا ہیں اور ایک دفعہ زبانی طلاق کہنے سے طلاق واقع ہونے کے متعلق کیا حکم ہے؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 14 جنوری 2020ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: اسلام کے ابتدائی زمانہ میں جبکہ دشمنان اسلام مسلمانوں کو طرح طرح کے ظلموں کا نشانہ بناتے تھے اور اگر کسی غریب مظلوم مسلمان کی عورت ان کے ہاتھ آجاتی تو وہ اسے لونڈی کے طور پر اپنی عورتوں میں داخل کر لیتے تھے۔چنانچہ جَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا کی قرآنی تعلیم کے مطابق دشمن اسلام کی ایسی عورتیں جو اسلام پر حملہ کرنے والے لشکر کے ساتھ ان کی مدد کے لئے آتی تھیں اور اُس زمانہ کے رواج کے مطابق جنگ میں بطور لونڈی کے قید کر لی جاتی تھیں۔اور پھر دشمن کی یہ عورتیں تاوان کی ادائیگی یا مکاتبت کے طریق کو اختیار کر کے جب آزادی بھی حاصل نہیں کرتی تھیں تو چونکہ اس زمانہ میں ایسے جنگی قیدیوں کو رکھنے کے لئے کوئی شاہی جیل خانے وغیرہ نہیں ہوتے تھے۔اس لئے انہیں مجاہدین لشکر میں تقسیم کر دیا جاتا تھا۔اسلامی اصطلاح میں ان عورتوں کو ملک یمین کہا جاتا ہے۔علاوہ ازیں ملک یمین کے سلسلہ میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اسلام بر سر پیکار دشمن کی عورتوں کے ساتھ صرف اس وجہ سے کہ وہ بر سر پیکار ہیں قطعاً اجازت نہیں دیتا کہ جو بھی دشمن ہے ان کی عورتوں کو پکڑ لاؤ اور اپنی لونڈیاں بنالو۔بلکہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جب تک خونریز جنگ نہ ہو تب تک کسی کو قیدی نہیں بنایا جاسکتا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مَا كَانَ لِنَبِي أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرِي حَتَّي يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللهُ يُرِيدُ الْأَخِرَةَ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (الانفال: 68) یعنی کسی نبی کے لئے جائز نہیں کہ زمین میں خونریز جنگ کئے بغیر قیدی بنائے تم دنیا کی متاع 511