بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 505 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 505

عورتیں استعمال کرتی تھیں۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ حضور ام نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص کو گلابی مائل زرد (بعضفُرٍ مُوَدَّد) کپڑا پہنے دیکھا تو اسے ناپسند فرمایا۔جس پر حضرت عبد اللہ بن عمرو نے اس کپڑے کو جلا دیا۔حضور تم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اسے جلانے کی بجائے اپنی کسی بیوی کو دیدیتے۔(سنن ابي۔تاب فِي الْحُمْرَةِ) يا پھر کفار اس زرد رنگ کو پہنتے تھے۔لہذا حضور لم نے صحابہ کرام کو کفار سے مشابہت سے بچانے کے لئے اس رنگ کے استعمال سے انہیں وقتی طور پر منع فرمایا۔(صحیح مسلم كتاب اللباس والزينة باب النَّهْيِ عَنْ لُبْسِ الرَّجُلِ الثَّوْبَ الْمُعَصْفَرَ) جس طرح حضور الم نے بعض ایسے برتنوں کے استعمال سے صحابہ کو وقتی طور پر منع فرمایا تھا جو اُن کے علاقہ میں شراب کشید کرنے کے لئے استعمال ہوتے تھے۔(صحیح بخاري كتاب الايمان بَابِ أَدَاءُ الْخُمُسِ مِنَ الْإِيمَانِ) سورۃ البقرۃ میں بنی اسرائیل کی گائے کے رنگ کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بعض رنگ باہم مشابہ ہوتے ہیں اور مختلف نقطہ نگہ سے ان پر مختلف الفاظ بول لئے جاتے ہیں۔گہرا زرد رنگ بھی ایسے ہی رنگوں میں سے ہے۔کوئی دیکھنے والا اسے زرد قرار دیدیتا ہے اور کوئی سرخ جیسے زعفران ہے۔زعفران اگر مختلف لوگوں کے سامنے رکھا جائے تو بعض لوگ اس کا رنگ سرخ بتائیں گے اور بعض اس کا زرد رنگ قرار دیں گے۔“ ( تفسیر کبیر جلد اوّل صفحہ 506،505) پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ معصفر ، ورس اور زعفران سے رنگا جانے والا کپڑا زیادہ قیمتی ہو اور ریشم کے لباس کی طرح اس زمانہ میں تکبر اور فخر کی علامت سمجھا جاتا ہو۔اس لئے حضور ا ہم نے اپنے صحابہ کی تربیت کے پیش نظر اور انہیں دنیوی آسائشوں کی بجائے اُخروی نعماء کی طرف مائل کرنے اور ان میں فخر و مباہات کی بجائے عاجزی اور انکساری پیدا کرنے کے لئے اس قسم کے قیمتی لباس کے استعمال سے منع فرمایا ہو اور اس کے مقابلہ پر عام زرد رنگ کے استعمال یا عام 505