بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 500 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 500

اور لڑکی دونوں کو دودھ پلایا تھا، علیحدگی کروا دی۔چنانچہ حضرت عقبہ بن حارث سے روایت ہے کہ: انہوں نے ابو اہاب بن عزیز کی لڑکی سے نکاح کیا اس کے بعد ایک عورت نے آکر بیان کیا کہ میں نے عقبہ کو اور اس عورت کو جس سے عقبہ نے نکاح کیا ہے دودھ پلایا ہے (پس یہ دونوں رضائی بہن بھائی ہیں، ان میں نکاح درست نہیں) عقبہ نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ تو نے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ تو نے (اس سے) پہلے کبھی اس بات کی اطلاع دی ہے۔پھر عقبہ سواری پر سوار ہو کر رسول اللہ یم کے پاس مدینہ گئے اور آپ سے ( یہ مسئلہ ) پوچھا تو نبی اللہ ہم نے فرمایا کہ اب جبکہ یہ بات کہہ دی گئی ہے تم کس طرح اسے اپنے نکاح میں رکھ سکتے ہو۔پس عقبہ نے اس عورت کو چھوڑ دیا۔اور اس نے دوسرے شخص سے نکاح کر لیا۔“ (صحيح بخاري كتاب العلم باب الرّحْلَةِ فِي الْمَسْأَلَةِ النَّازِلَةِ وَتَعْلِيمِ أَهْلِهِ) جہاں تک طلاق اور خلع کا تعلق ہے تو اس میں بھی کوئی فرق نہیں۔بلکہ یہ اسلام کا احسان ہے کہ اس نے مرد کو طلاق کا حق دینے کے ساتھ ساتھ عورت کو خُلع لینے کا حق دیا۔اور اس میں بھی مرد اور عورت کو برابر کے حقوق دیئے گئے ہیں۔جب مرد طلاق دیتا ہے تو اسے عورت کو ہر قسم کے مالی حقوق دینے پڑتے ہیں اور مزید یہ کہ جو کچھ وہ بیوی کو پہلے مالی مفادات پہنچا چکا ہے اس میں سے کچھ بھی واپس نہیں لے سکتا۔اسی طرح جب عورت اپنی مرضی سے خاوند کے کسی قصور کے بغیر خُلع لیتی ہے تو اسے بھی مرد کے بعض مالی حقوق از قسم حق مہر وغیرہ واپس کرنا پڑتا ہے، لیکن اگر عورت کے خلع لینے میں مرد کی زیادتی ثابت ہو تو اس صورت میں عورت کو یہ زائد فائدہ دیا گیا ہے کہ اسے مہر کا بھی حقدار قرار دیا جاتا ہے۔جس کا فیصلہ بہر حال قضاء تمام حالات دیکھ کر کرتی ہے۔اہل کتاب سے شادی کرنے، ولی کی ضرورت اور مرد کے ایک سے زائد شادیاں کر سکنے کے معاملات میں دراصل عورت کی حفاظت، وقار اور عزت کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔عورت کو اللہ تعالیٰ 500