بنیادی مسائل کے جوابات — Page 494
بالکل نظر انداز کیا جاتا ہے۔(انوار العلوم جلد 24 صفحہ 515) احباب جماعت کو مراقبہ کی نصیحت کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: " تمہیں ہر روز کچھ وقت خاموشی کے ساتھ ذکر الہی یا مراقبے کے لئے خرچ کرنے کی عادت بھی ڈالنی چاہیئے۔ذکر الہی کا مطلب یہ ہے کہ علاوہ نمازوں وغیرہ کے روزانہ تھوڑا سا وقت خواہ وہ ابتداء میں پانچ منٹ ہی ہو اپنے لئے مقرر کر لیا جائے جبکہ تنہائی میں خاموش بیٹھ کر تسبیح و تحمید کی جائے۔مثلاً سُبْحَانَ اللهِ ، اَلْحَمْدُ لله ، اللهُ اكْبَرُ اور اسی طرح دیگر صفات الہیہ کا ورد کیا جائے اور ان پر غور کیا جائے۔مراقبے کے یہ معنے ہیں کہ روزانہ کچھ دیر خلوت میں بیٹھ کر انسان اپنے نفس کا محاسبہ کرے کہ اس سے کون کونسی غلطیاں سرزد ہو گئی ہیں۔آیا وہ انہیں دُور کر سکتا ہے یا نہیں۔اگر کر سکتا ہے تو اب تک کیوں نہیں کیں۔اگر دُور نہیں کر سکتا تو اس کی کیا وجوہ ہیں اور کیا علاج ہو سکتا ہے۔پھر اس کے آگے وہ سوچ سکتا ہے کہ اس کے عزیزوں اور ہمسایوں کی اصلاح کی کیا صورت ہے۔تبلیغ کے کیا مؤثر ذرائع ہیں۔کیا رکاوٹیں ہیں اور انہیں کس طرح دُور کیا جا سکتا ہے۔اس قسم کے محاسبہ کا جو نتیجہ نکلے اسے ڈائری کے رنگ میں لکھ لیا جائے اور پھر اسی سلسلے کو وسیع کرنے کی کوشش کی جائے۔اگر اس رنگ میں ذکر الہی اور مراقبہ کی عادت ڈالی جائے تو یقیناً اس سے روحانیت ترقی کرے گی، عقل تیز ہو گی اور امام وقت کی ہدایات و تقاریر پر زیادہ غور و تدبر کرنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق مل جائے گی۔ایسا شخص آہستہ آہستہ ایک حد تک دنیا کے لئے ایک روحانی ڈاکٹر اور مصلح بن جائے گا۔“ انوار العلوم جلد 23 صفحہ 62،61) 494