بنیادی مسائل کے جوابات — Page 484
ماتمی جلوس سوال : اہل تشیع کے ماتمی جلوس کے لئے خدمت خلق کے جذبہ کے تحت اہل جلوس کو پانی وغیرہ پیش کرنے کی بابت محترم ناظم صاحب دارلافتاء ربوہ کی ایک رپورٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 22 نومبر 2020ء میں درج ذیل ارشاد فرمایا: جواب: میرے نزدیک تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ارشادات اس بارہ میں بڑے واضح ہیں کہ اس قسم کے کاموں کے لئے دن اور وقت مقرر کرنا بدعت ہے۔ہاں اگر کوئی احمدی خود یا کوئی جماعت سارا سال خدمت خلق کے جذبہ کے تحت لوگوں کی فلاح و بہبود کے کام کرتی ہو اور مختلف مذاہب اور تنظیموں کے پر امن جلوسوں کے لئے سارا سال ہی خدمت خلق کے تحت اس قسم کے سٹال لگاتی ہو تو اہل تشیع کے ماتمی جلوس کے لئے بھی اس قسم کا سٹال لگانے میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر یہ کام صرف اہل تشیع کے ماتمی جلوس کے لئے کیا جاتا ہے اور سارا سال ایسا کوئی سٹال نہیں لگایا جاتا تو پھر یقیناً یہ بدعت ہے۔اور احمدیوں کو اس قسم کی بدعات سے مکمل اجتناب کرنا چاہیئے۔نوٹ: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے جن ارشادات کا ذکر فرمایا ہے ، وہ قارئین کے استفادہ کے لئے ذیل میں درج کئے جا رہے ہیں۔(مرتب) ارشاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت قاضی ظہور الدین صاحب اکمل نے سوال کیا کہ محرم دسویں کو جو شربت و چاول وغیرہ تقسیم کرتے ہیں اگر یہ اللہ بہ نیت ایصال ثواب ہو تو اس کے متعلق حضور کا کیا ارشاد ہے؟ فرمایا: ”ایسے کاموں کے لئے دن اور وقت مقرر کر دینا ایک رسم و بدعت ہے اور آہستہ آہستہ ایسی رسمیں شرک کی طرف لے جاتی ہیں۔پس اس سے پر ہیز کرنا چاہیے کیونکہ ایسی رسموں کا انجام اچھا نہیں۔ابتداء میں 484