بنیادی مسائل کے جوابات — Page 483
سوال: ایک دوست نے لونڈیوں سے جسمانی فائدہ اٹھانے نیز سود کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اور حضرت ملک سیف الرحمٰن صاحب کے موقف کا ذکر کر کے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے اس بارہ میں رہنمائی چاہی۔جس پر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 15 فروری 2021ء میں اس بارہ میں درج ذیل ارشاد فرمایا: جواب: اسلام کے ابتدائی دور میں دشمنان اسلام کی ظالمانہ کارروائیوں کے جواب میں اسلامی جنگوں کی اجازت کے نتیجہ میں جب دشمنوں کے دیگر اموال غنیمت کے ساتھ ان کی عورتیں بھی لونڈیوں کی صورت میں مسلمانوں کے قبضہ میں آئیں تو سورۃ النساء کی بعض آیات کی روشنی میں میرا موقف یہی ہے کہ ان لونڈیوں کے ساتھ نکاح کے ذریعہ ہی تعلقات زوجیت استوار ہو سکتے تھے ، اگر چہ اس نکاح کے لئے ان لونڈیوں کی رضامندی ضروری نہیں تھی اور نہ ہی لونڈی سے نکاح کے نتیجہ میں مرد کے لئے چار شادیوں تک کی اجازت پر کوئی فرق پڑتا تھا۔ایسی لونڈیوں کے مسئلہ پر آپ نے جو اپنے موقف کا ذکر کیا ہے تو جیسا کہ میں نے ا۔جواب میں ( جو کی قسط نمبر 4 اور 5 میں شائع ہو چکا ہے ) لکھا ہے کہ اس مسئلہ پر مختلف آراء موجود ہیں اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کا بھی یہی موقف تھا کہ ان لونڈیوں سے تعلقات کے لئے نکاح کی ضرورت نہیں جبکہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ سے دونوں قسم کے موقف ثابت ہیں۔بہر حال نکاح ہو تا تھا یا نہیں ہو تا تھا، طریق جو بھی تھا لیکن اس بات پر سب متفق ہیں کہ اگر اس لونڈی کے ہاں اولاد ہو جاتی تھی تو مالک کی زندگی میں اسے اُتم الولد کا درجہ مل جاتا تھا، یعنی مالک نہ تو اس لونڈی کو فروخت کر سکتا تھا، نہ کسی اور کو ہبہ کر سکتا تھا اور مالک کی وفات کے بعد ایسی عورت کو آزادی کے پورے حقوق مل جاتے تھے اور وہ مکمل طور پر آزاد ہو جاتی تھی۔(قسط نمبر 32، الفضل انٹر نیشنل 22 اپریل 2022ء صفحہ 11) 483