بنیادی مسائل کے جوابات — Page 478
سوال : ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ مجھے یہ معلوم کر کے شدید دھچکا لگا کہ اسلام بر سر پیکار دشمن کی عورتوں کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم کرنے اور ان کو بیچنے کی اجازت دیتا ہے۔یہ بات میرے لئے بہت حوصلہ شکن تھی۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کے بعد مجھے امید تھی کہ آپ اس بات کی تردید فرمائیں گے اور اسلام کو اس نظریہ سے پاک قرار دیں گے لیکن میں نے ایسا نہیں پایا۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 03 مارچ 2018ء میں اس سوال کا نہایت بصیرت افروز جواب عطا فرمایا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: اصل بات یہ ہے کہ اس مسئلہ کی اچھی طرح وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے کئی غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور ان غلط فہمیوں کی تردید حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریرات میں فرمائی ہے اور آپ کے خلفاء بھی حسب موقعہ و قتافوقتاً اس کی تردید کرتے رہے اور اصل تعلیم بیان فرماتے رہے ہیں۔پہلی بات یہ ہے کہ اسلام بر سر پیکار دشمن کی عورتوں کے ساتھ صرف اس وجہ سے کہ وہ بر سر پریکار ہیں قطعاً اجازت نہیں دیتا کہ جو بھی دشمن ہے ان کی عورتوں کو پکڑ لاؤ اور اپنی لونڈیاں بنالو۔اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جب تک خونریز جنگ نہ ہو تب تک کسی کو قیدی نہیں بنایا جاسکتا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مَا كَانَ لِنَبِي أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرِي حَتَّي يُشْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللهُ يُرِيْدُ الْأَخِرَةَ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (الانفال: 68) کسی نبی کے لئے جائز نہیں کہ زمین میں خونریز جنگ کئے بغیر قیدی بنائے تم دنیا کی متاع چاہتے ہو جبکہ اللہ آخرت پسند کرتا ہے اور اللہ کامل غلبہ والا (اور ) بہت حکمت والا ہے۔پس جب خونریز جنگ کی شرط لگا دی تو پھر میدان جنگ میں صرف وہی عورتیں قیدی کے طور پر پکڑی جاتی تھیں جو محاربت کے لئے وہاں موجود ہوتی تھیں۔اس لئے وہ صرف عور تیں نہیں 478