بنیادی مسائل کے جوابات — Page 460
کتب حضرت مسیح موعود سوال : ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ غیر احمدی مسلمان جن میں میرے خاندان والے بھی شامل ہیں اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود لکھا ہے کہ جس نے میری ساری کتب تین دفعہ نہیں پڑھیں اسے میرے دعوی کی سمجھ نہیں ہے۔اور پھر وہ پوچھتے ہیں کہ کیا سب احمدیوں نے یہ کتب تین دفعہ پڑھی ہیں؟ اس کا کیا جواب دیا جائے؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 20 فروری 2020ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہیں یہ نہیں لکھا کہ جس نے میری ساری کتب تین دفعہ نہیں پڑھیں اسے میرے دعویٰ کی سمجھ نہیں ہے۔بلکہ حضور علیہ السلام نے یہ فرمایا ہے کہ : اور وہ جو خدا کے مامور اور مرسل کی باتوں کو غور سے نہیں سنتا اور اس کی تحریروں کو غور سے نہیں پڑھتا اس نے بھی تکبر سے ایک حصہ لیا ہے۔سو کوشش کرو کہ کوئی حصہ تکبیر کا تم میں نہ ہو تا کہ ہلاک نہ ہو جاؤ اور تا تم اپنے اہل و عیال سمیت نجات پاؤ۔“ ( نزول المسیح، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 403) حضور علیہ السلام کے اس ارشاد کا مطلب ہے کہ جن لوگوں کی دنیاوی کتب اور علوم کی طرف توجہ رہتی ہے اور دینی کتب اور علوم کی طرف توجہ نہیں کرتے ان میں ایک طرح کا تکبر پایا جاتا ہے کیونکہ وہ دنیاوی علوم کو ہی کافی سمجھتے ہیں حالانکہ انسان کی نجات کے لئے دینی علوم کا حاصل کرنا نہایت ضروری ہے۔اور دینی علوم دینی کتب کے پڑھنے سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ایک جگہ حضور علیہ السلام نے اپنی تصنیف ”حقیقۃ الوحی“ کے بارہ میں تاکید کرتے ہوئے فرمایا: ”ہمارے دوستوں کو چاہیے کہ حقیقۃ الوحی کو اوّل سے آخر تک بغور پڑھیں بلکہ اس کو یاد کر لیں۔کوئی مولوی ان کے سامنے نہیں ٹھہر سکے 460