بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 458 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 458

کاروبار میں اشیاء کی قیمت کی قسطوں میں ادائیگی سوال: ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ عام ضرورت کی اشیاء کی فروخت کے کاروبار میں اشیاء کی قیمت قسطوں میں ادا کرنے والوں سے عام قیمت سے کچھ زیادہ لینا سود تو نہیں؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 30 مارچ 2020ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: آپ اپنے کاروبار میں چیز خریدنے والوں کو اگر پہلے بتا دیں کہ نقد کی صورت میں اس چیز کی اتنی قیمت ہو گی اور اگر وہ اُسی چیز کی قیمت قسطوں میں ادا کریں گے تو انہیں اتنے پیسے زیادہ دینے پڑیں گے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور یہ سود کے زمرہ میں نہیں آتا۔کیونکہ اس صورت میں آپ کو قسطوں میں چیزیں خریدنے والوں کا باقاعدہ حساب رکھنا پڑے گا اور ہو سکتا ہے کہ انہیں ان کی قسطوں کی ادائیگی کے لئے یاد دہانیاں بھی کروانی پڑیں، جس پر بہر حال آپ کا وقت صرف ہو گا اور دنیاوی کاموں میں وقت کی بھی ایک قیمت ہوتی ہے چنانچہ ملازمت پیشہ لوگ اپنے وقت ہی کی بڑی بڑی تنخواہیں لیتے ہیں۔(قسط نمبر 23، الفضل انٹر نیشنل 19 نومبر 2021ء صفحہ 12) 458