بنیادی مسائل کے جوابات — Page 455
دھمکی دینا، ان کے ساتھیوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا، راہگیروں کو لوٹنا، ہمسایوں اور مہمانوں کے ساتھ نہایت بُرا سلوک کرنا، کمزور لوگوں کو تنگ کرنا، بد فعلی اور ہم جنس پرستی میں مبتلا ہونا وغیرہ جیسے گناہ شامل تھے۔انہیں ان گناہوں کی پاداش میں زلزلہ کے ذریعہ اس طرح تباہ کیا کہ ان کی بستیوں کو تہہ و بالا کر کے ان پر سنگریزوں سے بنے ہوئے پتھروں کی بارش برسائی۔چنانچہ سورۃ الحجر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَجَاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ قَالَ إِنَّ هَؤُلَاءِ ضَيْفِي فَلَا تَفْضَحُونِ وَاتَّقُوا اللهَ وَلَا تُخْزُونِ قَالُوا أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعَالَمِيْنَ قَالَ هَؤُلَاءِ بَنَاتِي إِنْ كُنْتُمْ فَاعِلِيْنَ لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُشْرِقِيْنَ فَجَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِنْ سِجِّيْلِ۔(سورة الحجر: 68 تا 75) یعنی اور اس شہر کے لوگ خوشیاں مناتے ہوئے اس ( یعنی لوط) کے پاس آئے (اس خیال سے کہ اب اسے پکڑنے کا موقعہ مل گیا ہے) (جس پر اس نے (ان سے) کہا (کہ) یہ لوگ میرے مہمان ہیں۔تم (انہیں ڈرا کر مجھے رسوا نہ کرو۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور مجھے ذلیل نہ کرو۔انہوں نے کہا ہم نے تمہیں ہر ایرے غیرے کو اپنے پاس ٹھہرانے سے روکا نہ تھا۔اس نے کہا (کہ) اگر تم نے (میرے خلاف) کچھ کرنا (ہی) ہو تو یہ میری بیٹیاں (تم میں موجود ہی) ہیں (جو کافی ضمانت ہیں)۔(اے ہمارے نبی !) تیری زندگی کی قسم (کہ) یہ (تیرے مخالفین بھی) یقیناً (انہی کی طرح) اپنی بدمستی میں بہک رہے ہیں۔اس پر اس (موعود) عذاب نے انہیں ( یعنی لوط کی قوم کو دن چڑھتے (ہی) پکڑ لیا۔جس پر ہم نے اس بستی کی اوپر والی سطح کو اس کی نچلی سطح کر دیا اور ان پر سنگریزوں سے بنے ہوئے پتھروں کی بارش برسائی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس آیت میں بیان ہونے عذاب کی حکمت بیان کرتے ہوئے اور سنگریزوں کی بارش کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: لوط کی قوم نے چونکہ اعلیٰ اخلاق چھوڑ کر ادنی اخلاق اختیار کئے تھے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے بھی ان کے شہر کے اوپر کے حصہ کو نیچے کر دیا اور 455