بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 435 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 435

سوال : ایک عرب دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں فقہ حنفی کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک ارشاد پیش کر کے اپنے بارہ میں لکھا ہے کہ میں فقہ حنفی کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا کیونکہ میں بھی قیاس کے خلاف ہوں۔نیز دریافت کیا کہ کیا میں فقہ ظاہر یہ پر عمل کر سکتا ہوں، کیونکہ فقہ ظاہر یہ نے قرآن و حدیث کی نصوص کے ظاہر پر عمل کرنے کے بارہ میں بہت زبر دست نظریہ پیش کیا ہے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 21 دسمبر 2020ء میں اس بارہ میں درج ذیل ہدایات فرمائیں: جواب: آپ نے اپنے خط میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جس ارشاد کا ذکر کیا ہے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس میں اُس زمانہ کے دو فریقوں کے قرآن و حدیث کے بارہ میں افراط و تفریط پر مشتمل نظریات کارڈ فرما کر قرآن و حدیث کا حقیقی مقام بیان کرتے ہوئے اپنی جماعت کو نصیحت فرمائی ہے کہ حدیث خواہ کیسے ہی ادنیٰ درجہ کی ہو جب تک وہ قرآن کریم اور سنت سے متصادم نہ ہو اسے انسانی فقہ پر ترجیح دی جائے گی۔اور فقہ کی بنیاد قرآن کریم، سنت رسول الم اور حدیث نبوی ال پر ہونی چاہیئے۔لیکن اگر کسی مسئلہ کا حل ان تینوں سے نہ مل سکے تو پھر فقہ حنفی کے مطابق عمل کر لیا جائے۔اور اگر زمانی تغیرات کی وجہ سے فقہ حنفی سے بھی کوئی صحیح رہنمائی نہ ملے تو ایسی صورت میں احمدی علماء اس مسئلہ کے بارہ میں اجتہاد کریں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہماری جماعت کا یہ فرض ہونا چاہیئے کہ اگر کوئی حدیث معارض اور مخالف قرآن اور سنت نہ ہو تو خواہ کیسے ہی ادنیٰ درجہ کی حدیث ہو اس پر وہ عمل کریں اور انسان کی بنائی ہوئی فقہ پر اُس کو ترجیح دیں۔اور اگر حدیث میں کوئی مسئلہ نہ ملے اور نہ سنت میں اور نہ قرآن میں مل سکے تو اس صورت میں فقہ حنفی پر عمل کریں کیونکہ اس فرقہ کی کثرت خدا کے ارادہ پر دلالت کرتی ہے اور اگر بعض موجودہ تغیرات کی وجہ سے 435