بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 412 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 412

سوال: ایک دوست نے دریافت کیا کہ دار قطنی میں ایک حدیث ہے کہ حضور لم نے نماز عید کے بعد فرمایا کہ ہم خطبہ دیں گے، جو چاہے سننے کے لئے بیٹھا رہے اور جو جانا چاہے چلا جائے، کیا یہ حدیث درست ہے ؟ اس پر حضور انور نے اپنے مکتوب مؤرخہ 20 اکتوبر 2020ء میں درج ذیل جواب عطا فرمایا: جواب: خطبہ عید کے سننے سے رخصت پر مبنی حدیث جسے آپ نے دار قطنی کے حوالہ سے اپنے خط میں درج کیا ہے، سنن ابی داؤد میں بھی روایت ہوئی ہے۔یہ بات درست ہے کہ حضور ﷺ نے خطبہ عید کے سنے کی اس طرح تاکید نہیں فرمائی جس طرح خطبہ جمعہ میں حاضر ہونے اور اسے مکمل خاموشی کے ساتھ سننے کی تاکید فرمائی ہے۔اسی بناء پر علماء و فقہاء نے خطبہ عید کو سنت اور مستحب قرار دیا ہے۔لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ حضور ام نے عید کے لئے جانے اور دعاء المسلمین میں شامل ہونے کو نیکی اور باعث برکت قرار دیا ہے اور اس کی یہاں تک تاکید فرمائی کہ ایسی خاتون جس کے پاس اپنی اوڑھنی نہ ہو وہ بھی کسی بہن سے عاریہ اوڑھنی لے کر عید کے لئے جائے۔اور ایام حیض والی خواتین کو بھی عید پر جانے کی اس ہدایت کے ساتھ تاکید فرمائی کہ وہ نماز کی جگہ سے الگ رہ کر دعا میں شامل ہوں۔(قسط نمبر 1، الفضل انٹر نیشنل 27 اکتوبر تا02 نومبر 2020ء صفحہ 29) 412