بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 404 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 404

سوال: انڈیا سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ انہیں Feminist خیال آتے ہیں جو اسلام کی تعلیم سے متضاد ہیں۔نیز انہوں نے پوچھا ہے کہ عورت نکاح میں اپنا مہر خود کیوں مقرر نہیں کر سکتی۔اس کی خاموشی اس کی رضامندی کیوں سمجھی جاتی ہے۔عورت میں شرم اور خاموشی اتنی پسند کیوں کی جاتی ہے، جبکہ ہم ایک ایسے معاشرہ میں رہتے ہیں جہاں عورتوں کے حقوق کی بات ہوتی ہے۔نیز نکاح کے وقت اگر عورت خود موجود ہی نہیں تو اس کی مرضی کے بارہ میں اس کا ولی غلط بیانی بھی تو کر سکتا ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 18 جون 2021ء میں اس سوال کے جواب میں درج ذیل ہدایات عطاء فرمائیں۔حضور انور نے فرمایا: جواب: کسی چیز کے بارہ میں خیالات کا آنا یا کسی چیز کے بارہ میں اعتراض پیدا ہونا عموماً عدم علم یا اس چیز کے بارہ میں پوری طرح معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔اور اعتراض کرنے والا انسان بعض اوقات صرف سنی سنائی باتوں پر یقین کر کے اعتراض کر رہا ہوتا ہے۔اس لئے قرآن کریم نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اس چیز کے بارہ میں پوری طرح تحقیق کر لیا کرو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔يَايُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَمَ لَسْتَ مُؤْمِنَّا تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَيُوةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا۔(النساء: 95) یعنی اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کر رہے ہو تو اچھی طرح چھان بین کر لیا کرو اور جو تم پر سلام بھیجے اس سے یہ نہ کہا کرو کہ تو مومن نہیں ہے۔تم دنیاوی زندگی کے اموال چاہتے ہو تو اللہ کے پاس غنیمت کے کثیر سامان ہیں۔اس سے پہلے تم اسی طرح ہوا کرتے تھے پھر اللہ نے تم پر فضل کیا۔پس خوب چھان بین کر لیا کرو۔یقیناً اللہ اس سے جو تم کرتے ہو بہت باخبر ہے۔404