بنیادی مسائل کے جوابات — Page 393
ایسی صورت میں یہ بات مد نظر رکھنا بھی بہت ضروری ہے کہ طلاق بثہ کے بعد دوسرے شخص سے اس غرض سے شادی کرنا کہ اس سے طلاق لے کر پہلے خاوند کے ساتھ رجوع کیا جاسکے ، یا وہ مرد اس عورت سے اس غرض سے شادی کرے کہ شادی کے بعد وہ اسے طلاق دیدے گا تا کہ وہ عورت اپنے پہلے خاوند کی طرف لوٹ سکے ، تو اس قسم کی منصوبہ بندی کو شریعت نے نہایت ناپسند فرمایا ہے اور اس قسم کی شادی کرنے اور کروانے والے مرد و عورت پر آنحضور لم نے لعنت بھیجی ہے۔(سنن ترمذي كتاب النكاح بَابِ الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلِ لَهُ) (قسط نمبر 25، الفضل انٹر نیشنل 24 دسمبر 2021ء صفحہ 11) 393