بنیادی مسائل کے جوابات — Page 353
سوال: کویت سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے دریافت کیا کہ ہم مسلمانوں پر شادی کرنا کیوں فرض ہے۔اور اگر کوئی بہت نیک ہو لیکن شادی نہ کرے تو کیا وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا ؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 15 اکتوبر 2021ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: مسلمانوں کے لئے شادی کرنا اسلام کے بنیادی احکامات میں سے ایک حکم ہے۔اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن کریم میں اس کا ارشاد فرمایا ہے۔چنانچہ فرمایا: فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنِي وَ ثُلُثَ وَرُبَعَ۔(سورة النساء:4) یعنی عورتوں میں سے جو تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کرو۔دو دو اور تین تین اور چار چار۔اسی طرح شادی کرنا حضور الم کی سنت ہے اور حضور الم نے فرمایا ہے کہ حقیقی مسلمان وہی ہے جو میری سنت پر عمل کرتا ہے۔چنانچہ حضرت عائشہ سے مروی ہے: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي فَمَنْ لَمْ يَعْمَلْ بِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي وَتَزَوَّجُوْا فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ وَمَنْ كَانَ ذَا طَوْلٍ فَلْيَنْكِحَ وَمَنْ لَمْ يَجِدُ فَعَلَيْهِ بِالصَّيَامِ فَإِنَّ الصَّوْمَ لهُ وِجَاءُ (سنن ابن ماجه كتاب النكاح بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ النِّكَاحِ) یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نکاح میری سنت ہے۔پس جو میری سنت پر عمل نہ کرے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔اور نکاح کیا کرو اس لئے کہ تمہاری کثرت پر میں امتوں کے سامنے فخر کروں گا۔اور جس میں استطاعت ہو تو وہ نکاح کرے اور جس میں استطاعت نہ ہو تو وہ روزے رکھے اس لئے کہ روزہ اس کی شہوت کو توڑ دے گا۔پس اگر اچھا رشتہ مل رہا ہو اور کفو بھی ہو تو شادی ضرور کرنی چاہیئے۔لیکن یہ نہیں کہ کسی بھی کافر اور ملحد کے ساتھ شادی کر لی جائے بلکہ اس معاملہ بھی اسلامی تعلیمات اور انتظامی ہدایات کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔(قسط نمبر 45، الفضل انٹر نیشنل 16 دسمبر 2022ء صفحہ 11) 353