بنیادی مسائل کے جوابات — Page 351
مرد سے شادی کی ممانعت کا واضح حکم قرآن کریم میں ملتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃ البقرۃ آیت 222 میں حکم دیتا ہے کہ مشرکوں سے جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں اپنی عورتیں نہ بیا ہو۔اور سورۃ المائدہ کی آیت 6 میں جہاں مسلمانوں کے لئے اہل کتاب کا اور اہل کتاب کے لئے مسلمانوں کا کھانا جائز قرار دیا وہاں مسلمان مردوں کو اہلِ کتاب عورتوں سے نکاح کی تو اجازت دی لیکن مسلمان عورتوں کے اہل کتاب مردوں سے نکاح کا ذکر نہ فرما کر اس امر کی ممانعت کو قائم فرمایا۔اور سورۃ الممتحنہ کی آیت 11 میں ہجرت کر کے آنے والی مسلمان عورتوں کو کفار کی طرف نہ لوٹانے اور ان عورتوں کو کفار کے لئے اور کفار کو ان مسلمان عورتوں کے لئے جائز نہ ہونے کی ہدایت فرما کر کفار سے بھی مسلمان عورتوں کو بیاہنے کی ممانعت فرما دی۔ان قرآنی احکامات کے علاوہ آنحضور الم کی سنت اور آپ کے ارشادات سے کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ حضور ا نے اپنی کسی عزیزہ کو کسی غیر مسلم سے بیاہا ہو۔یا ان قرآنی احکامات کے نزول کے بعد صحابہ رسول اللهم نے خود یا حضور الم کے ارشاد پر اپنی کسی بچی کو کسی غیر مسلم سے بیابا ہو۔بلکہ اس کے برعکس حضور ا م نے صحابہ کو عام نصیحت فرمائی کہ جب تمہارے زیر کفالت کسی مسلمان خاتون کا رشتہ کوئی ایسا شخص طلب کرے جس کا دین اور اخلاق تمہیں پسند ہو تو اس خاتون کو اس سے بیاہ دو، خواہ اس شخص میں کوئی نقص ہو۔حضور ام نے ( دین اور اخلاق والے) اس فقرہ کو تین دفعہ دہرایا۔(سنن ترمذي كتاب النکاح) اس زمانہ کے حکم و عدل اور حضرت اقدس محمد مصطفی ایم کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آقا و مطاع کی پیروی میں اسی اسلامی تعلیم کے عین مطابق اپنے متبعین کو نصیحت فرمائی کہ: غیر احمدیوں کی لڑکی لے لینے میں حرج نہیں ہے کیونکہ اہل کتاب عورتوں سے بھی تو نکاح جائز ہے بلکہ اس میں تو فائدہ ہے کہ ایک اور انسان ہدایت پاتا ہے۔اپنی لڑکی کسی غیر احمدی کو نہ دینی چاہیئے۔اگر 66 ملے تولے بیشک لو۔لینے میں حرج نہیں اور دینے میں گناہ ہے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 525 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) حضور علیہ السلام نے سورۃ المائدہ میں بیان نص قرآنی کے تحت ہی غیر احمدی مرد کو اپنی لڑکی 351