بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 350 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 350

سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں ازھر یونیورسٹی کی ایک عہدیدار خاتون کے فتویٰ کہ ” قرآن کریم میں کوئی ایسی نص نہیں جو مسلمان لڑکی کو غیر مسلم کے ساتھ شادی سے منع کرتی ہو۔“ کے بارہ میں رہنمائی چاہی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 21 دسمبر 2020ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا: جواب: اسلامی تعلیمات کی بنیاد قرآن کریم کے علاوہ بانی اسلام حضرت اقدس محمد مصطف العلم کی سنت اور قرآن و سنت سے موافقت رکھنے والی احادیث نبویہ الم پر ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جہاں قرآن کریم میں بیان احکامات کی پیروی کا مسلمانوں کو حکم دیا وہاں یہ بھی فرمایا ہے کہ : قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ قُلْ أَطِيْعُوا اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ (آل عمران : 32،33) یعنی (اے محمد ا ) تو کہہ کہ (اے لوگو ) اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو (اس صورت میں) وہ (بھی) تم سے محبت کرے گا اور تمہارے قصور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔تو کہہ (کہ) تم اللہ اور اس رسول کی اطاعت کرو (اس پر اگر وہ منہ پھیر لیں تو ( یاد رکھو کہ) اللہ کافروں سے ہر گز محبت نہیں کرتا۔اسی طرح فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَ مَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (الحشر: 8) کہ یہ رسول جو کچھ تمہیں دے اسے لے لو اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔اللہ کا عذاب یقیناً بہت سخت ہوتا ہے۔۔ان بنیادی اصولوں کو جاننے کے بعد جب ہم مسلمان عورت کی کسی غیر مسلم مرد سے شادی کے معاملہ پر غور کرتے ہیں تو ہمیں ایک مسلمان عورت کی ہر مشرک، ہر کافر اور ہر اہلِ کتاب 350