بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 335 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 335

سوال: سیریا کے ایک دوست نے شیئرز اور سٹاک مارکیٹ وغیرہ کے کاروبار میں سودی عناصر کے پائے جانے اور اس بارہ میں اپنی ریسرچ پیش کرنے کے بارہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خدمت میں تحریر کیا۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 28 ستمبر 2021ء میں اس مسئلہ کے بارہ میں درج ذیل ہدایات فرمائیں۔حضور انور نے فرمایا: جواب: علمی تحقیق کرنا تو بہت اچھی بات ہے ، آپ ضرور اس بارہ میں تحقیق کر کے اپنی رپور مجھے بھجوائیں۔باقی جہاں تک موجودہ زمانہ میں مختلف قسم کے کاروباروں میں سودی عناصر کے پائے جانے کا تعلق ہے تو اس بات کو سمجھنے کے لئے اس زمانہ کے حکم و عدل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حسب ذیل ارشاد بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اب اس ملک میں اکثر مسائل زیر وزبر ہو گئے ہیں۔گل تجارتوں میں ایک نہ ایک حصہ سود کا موجود ہے۔اس لئے اس وقت نئے اجتہاد کی ضرورت ہے۔66 (البدر نمبر 41 و42، جلد 3، مؤرخہ یکم و 8 نومبر 1904ء صفحہ 8) (ملفوظات، جلد چہارم، ایڈیشن 2023، صفحہ 313) پھر ایک جگہ سود کی تعریف بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: شرع میں سود کی یہ تعریف ہے کہ ایک شخص اپنے فائدے کے لئے دوسرے کو روپیہ قرض دیتا ہے اور فائدہ مقرر کرتا ہے۔یہ تعریف جہاں صادق آوے گی وہ سود کہلاوے گا۔لیکن جس نے روپیہ لیا ہے اگر وہ وعدہ وعید تو کچھ نہیں کرتا اور اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے تو وہ سود سے باہر ہے۔چنانچہ انبیاء ہمیشہ شرائط کی رعایت رکھتے آئے ہیں۔اگر بادشاہ کچھ روپیہ لیتا ہے اور وہ اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے اور دینے والا اس نیت سے نہیں دیتا کہ سود ہے تو وہ بھی سود میں داخل نہیں ہے۔وہ بادشاہ کی طرف سے احسان ہے۔پیغمبر خدا نے کسی سے ایسا قرضہ نہیں لیا کہ ادا ئیگی وقت اُسے کچھ نہ کچھ ضرور زیادہ (نہ) دے دیا ہو۔یہ 335