بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page iv of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page iv

ہے اور ابتد ا سے قرآن شریف کے ساتھ ہی ظاہر ہوئی اور ہمیشہ ساتھ رہے گی۔اور تیسرا ذریعہ ہدایت کا حدیث ہے جو قرآن کی خادم اور سنت کی خادم ہے۔ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ جب تک اُمت ہدایت کے ان تین ذرائع میں بیان تعلیمات پر قائم رہے گی وہ ہدایت پر قائم رہے گی۔لیکن جیسا کہ حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ امت پر ایک ایسا وقت آئے گا جب لوگ قرآن کریم کو مہجور کی طرح چھوڑ دیں گے۔وہ قرآن پڑھیں گے تو سہی لیکن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا یعنی اس پر عمل نہیں کریں گے۔اسی طرح مسلمان حضور الم کی پاکیزہ سنت کو ترک کر کے مختلف قسم کی بدعات میں پڑ جائیں گے۔چنانچہ ہم نے دیکھا کہ ایسا ہی ہوا اور ”إِنَّ أُمَّتِي سَتَفْتَرِقُ عَلَي ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً“ (سنن ابن ماجه - کتاب الفتن) کی پیشگوئی بھی حرف بہ حرف پوری ہوئی۔” جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِيْن“(الحجر: 92) کے انذار کے باوجو د مسلمانوں نے قرآنی آیات کی ایسی تشریحات و تفاسیر کیں جو قرآنی محکمات کے متصادم و مخالف تھیں۔انہوں نے سنت نبوی کو ترک کر کے بدعات کو اپنا لیا۔بعض نے حدیث کو قرآن و سنت پر قاضی بنالیا۔بعض نے اپنے پاس سے باتیں گھڑ لیں اور انہیں رسول الله لم کی طرف منسوب کر دیا۔ہر ایک نے اپنے موقف کو درست قرار دیتے ہوئے اس پر اصرار کیا اور اس طرح اُمت مختلف فرقوں میں بٹتی چلی گئی۔اُمت کے اس بگاڑ اور تفرقہ کے اپنی انتہاء کو پہنچ جانے پر اور زمانہ کے بزبان حال چلا چلا کر ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم:42) کا منظر پیش کرنے پر اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ پھر اس اُمتِ مرحومہ پر رحم کرتے ہوئے اور اپنے محبوب بندہ، سید الرسل، خاتم النبيين الم کو دی جانے والی خوشخبری وَ آخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الجمعة:4) کے مطابق دورِ آخرین کے لئے آپ کے روحانی فرزند اور غلام صادق حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کو بروزی، امتی اور ظلی نبی کے طور پر مبعوث فرمایا اور آپ کو اس اُمت کی اصلاح کے لئے بہت سی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ حکم و عدل کے منصب پر بھی فائز فرمایا تاکہ آپ اللہ تعالیٰ سے ہدایت پا کر قرآن کریم، سنت رسول اللم اور احادیث نبویہ للی یتیم کی روشنی میں کامل انصاف کے ساتھ مسلمانوں کے باہمی ii