بنیادی مسائل کے جوابات — Page iii
ابتدائیہ ہمارے آقا و مولا حضرت اقدس محمد مصطفی اللی تم کو اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا۔اور آپ کو قرآن کریم کی صورت میں ایک ایسی کامل و مکمل شریعت عطا فرمائی جو صرف عامۃ الناس کے لئے ہی ہدایت نہیں ہے بلکہ تمام تقویٰ شعار اور متقین کو بھی ہدایت کی ارفع و اعلیٰ منازل کی طرف رہنمائی کرنے والی ہے۔حضور ایلم نے اپنے پر نازل ہونے والی وحی الہی کی کامل اتباع فرمائی اور قرآن کریم میں مذکور تمام احکامات و تعلیمات کی منشاء اور غرض و غایت کو اپنے عملی نمونہ کے ساتھ اس شان سے ظاہر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے اسوۂ حسنہ قرار دیا اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے طالبوں کے لئے آپ کی زبانِ مبارک سے یہ اعلان کروایا اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران: 32) کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو۔حضور اللی علم کی یہی وہ پاکیزہ سنت ہے جس کا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ(مسند احمد بن حنبل، احاديث عائشہ) کے الفاظ میں اظہار فرمایا کہ آپ اللی علیم کے اخلاق قرآن کریم کے عین مطابق تھے۔حضور اللی کا یہی عملی نمونہ جب صحابہ کرام ، تابعین اور تبع تابعین کے ذریعہ نسلاً بعد نسل ہم تک پہنچا تو اسی کا نام سنت متواترہ ہے۔قرآن کریم کے بعد آپ کی پاکیزہ سنت ہدایت کا دوسرا اہم ذریعہ ہے۔پھر حضور ا نے وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَي ـ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحي (النجم:4، 5) کے قرآنی فرمان کے تحت روز مرہ زندگی کے بہت سے معاملات میں اور بہت سے دیگر امور کے بارہ میں اپنی زبانِ مبارک سے رہنما اور فیصلہ کن ارشادات بھی فرمائے ، جو احادیث رسول الل علم کے نام سے موسوم ہوئے۔الغرض یہ تین چیزیں ہیں جو اُمت محمدیہ کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئی ہیں۔ان میں سب سے اول قرآن مجید ہے جو کتاب اللہ ہونے کی وجہ سے مقدم اور امام ہے۔پھر سنت ہے یعنی آنحضرت ا کے وہ اعمال جو آپ نے قرآن شریف کے احکام کی تشریح کے لئے کر کے دکھائے۔دوسرے الفاظ میں آپ کی وہ فعلی روش جو اپنے اندر تو اتر رکھتی i