بنیادی مسائل کے جوابات — Page 313
روح سوال: ایک دوست نے دریافت کیا ہے کہ کیا نفس اور روح ایک ہی چیز ہے؟ نیز خطبہ عید کے حوالہ سے دار ، دار قطنی میں مندرج ایک حدیث کہ حضور ایم نے نماز عید کے بعد فرمایا کہ ہم خطبہ دیں گے ، جو چاہے سننے کے لئے بیٹھا ر ہے اور جو جانا چاہے چلا جائے، تحریر کر کے دریافت کیا ہے کہ کیا یہ حدیث درست ہے؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 20 اکتوبر 2020ء میں ان سوالات کے درج ذیل جوابات تحریر فرمائے: جواب: قرآن کریم میں روح اور نفس کے الفاظ مختلف جگہوں پر مختلف معانی میں آئے ہیں۔روح کا لفظ کلام الہی، فرشتوں، حضرت جبرائیل، انبیاء اور اس روح کے معانی میں بیان ہوا ہے جو بحکم الہی ایک خاص وقت پر انسانی قالب میں نمودار ہوتی ہے۔جبکہ نفس کا لفظ جان،سانس، شخص، ذی روح چیز ، دل، ہستی اور شعور وغیرہ کے لئے استعمال ہوا ہے۔لغوی اعتبار سے روح کا لفظ اس چیز کے لئے بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ نفوس زندہ رہتے ہیں۔یعنی زندگی۔اسی طرح روح کا لفظ پھونک، وحی و الہام، جبرائیل، امر نبوت، خدا تعالیٰ کے فیصلہ اور حکم کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔نیز جسم کے مقابل پر ایک چیز جو حیوان کو باقی چیزوں سے ممتاز کرتی اور انسان کو باقی حیوانوں سے ممتاز کرتی ہے اور جو انسان کو باخدا بنا دیتی ہے اسے بھی روح کہا جاتا ہے۔جبکہ نفس کا لفظ لغوی اعتبار سے جسم، شخص، روح، جسم اور روح کا مجموعہ انسان، عظمت، عزت، ہمت، ارادہ، ، خود وہی چیز اور رائے وغیرہ کے لئے بولا جاتا ہے۔قرآن کریم اور احادیث کے مطالعہ سے نفس اور روح میں ایک فرق یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نفس پر قابو پانے، اس کی اصلاح کرنے اور اس میں تبدیلی پیدا کرنے کی ایک حد تک قدرت اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہے۔اسی لئے قرآن کریم نے نفس کی تین حالتیں ( انارہ، لوامہ اور مطمئنہ بیان فرمائی ہیں۔نیز حدیث میں آتا ہے کہ بہادر وہ نہیں جو کشتی میں مد مقابل کو پچھاڑ دے بلکہ بہادر وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابورکھے۔جبکہ روح کا معاملہ اللہ تعالیٰ نے 313