بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 294 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 294

دعائے قنوت سوال: ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا ہے کہ بچے اکثر سوال کرتے ہیں کہ جب ہم اپنی مرضی سے پیدا نہیں ہوئے تو خدا تعالیٰ کے احکامات کی پیروی ہم پر کیوں لازم ہے؟ نیز لکھا کہ دعائے قنوت میں جو یہ فقرہ ہے کہ ”ہم چھوڑتے ہیں تیرے نافرمان کو “ تو کیا اس سے مراد نافرمان اولاد اور افراد جماعت بھی ہو سکتے ہیں؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 20 فروری 2020ء میں ان سوالات کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: جہاں تک دعائے قنوت کے فقرہ کا تعلق ہے تو اس سے مراد وہ فاسق و فاجر کفار ہیں جنہوں نے منافقت اور دھو کہ کے ساتھ مسلمانوں کا قتل و غارت کیا اور انہیں طرح طرح کے نقصان پہنچائے۔چنانچہ بئر معونہ اور رجیع جیسے واقعات کے بعد ہی حضور الم نے قنوت فرمایا۔پس والدین کی نافرمان اولا د یا نظام جماعت سے انتظامی سزا پانے والے افراد جماعت اس سے مراد نہیں ہو سکتے۔البتہ انتظامی سزا پانے والے ایسے افراد جماعت جن پر ان سزاؤں کا بظاہر کوئی اثر نہیں ہوتا، ان کی جھوٹی اناؤں نے انہیں اپنے قبضہ میں لیا ہوتا ہے اور وہ بھول جاتے ہیں کہ نظام جماعت کی اطاعت کرنی ہے۔ایسے لوگوں کو اس سزا کا احساس دلانے کے لئے باقی افراد جماعت کا فرض بنتا ہے کہ ان کے ساتھ مجلسوں میں نہ بیٹھیں، انہیں اپنی دعوتوں میں نہ بلائیں اور نہ انہیں اپنی خوشیوں میں شامل کریں۔کیونکہ جماعتی تعزیر ایک معاشرتی دباؤ کے لئے دی جاتی ہے۔تاہم بیوی بچوں اور والدین کو ان کے ساتھ تعلقات رکھنے کی اس لئے اجازت دی جاتی ہے کہ وہ انہیں سمجھائیں اور نظام جماعت کا مطیع و فرمانبردار اور صحت مند فرد بنانے کی کوشش کریں۔(قسط نمبر 21، الفضل انٹر نیشنل 01 اکتوبر 2021ء صفحہ 11) 294