بنیادی مسائل کے جوابات — Page 269
سوال: جرمنی سے ایک مرتبی صاحب نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ کیا ایک عورت اپنے مخصوص ایام میں کسی عورت کی میت کو غسل دے سکتی ہے؟ نیز یہ کہ جس شخص کو صدقہ دیا جائے کیا اسے بتانا ضروری ہے کہ یہ صدقہ کی رقم ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 15 ستمبر 2021ء میں بارہ میں درج ذیل ہدایات عطاء فرمائیں۔حضور انور نے فرمایا: جواب: قرآن کریم یا احادیث میں بظاہر کوئی ایسی ممانعت نہیں آئی کہ حائضہ یا جنبی کسی میت کو غسل نہیں دے سکتے۔البتہ صحابہ و تابعین نیز فقہاء میں اس بارہ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔کچھ اس کے جواز کے قائل ہیں اور ان کی دلیل آنحضور الم کا یہ فرمان ہے کہ: إِنَّ الْمُسْلِمَ لَيْسَ بِنَجْسٍ (السنن الكبري للبيهيقي كتاب الجنائز باب من لم ير الغسل من غسل الميت) یعنی مسلمان ناپاک نہیں ہو تا۔لہذا ان کے نزدیک کسی جنبی یا حائضہ کے میت کو غسل دینے میں کوئی حرج نہیں۔جبکہ ایک گروہ کے نزدیک حائضہ اور جنبی کا میت کو غسل دینا مکروہ ہے۔اور ایک تیسری رائے یہ ہے کہ اگر مجبوری ہو اور حائضہ اور جبنی کے علاوہ کوئی اور میت کو غسل دینے والا موجود نہ ہو تو اس مجبوری کی صورت میں حائضہ اور جنبی میت کو غسل دے سکتے ہیں لیکن عام حالات میں انہیں میت کو غسل نہیں دینا چاہیئے۔میرے نزدیک بھی عام حالات میں حائضہ اور جنسی کو میت کو غسل نہیں دینا چاہیے لیکن اگر کوئی دوسرا موجود نہ ہو تو مجبوری کی حالت میں حائضہ یا جنبی کے میت کو غسل دینے میں کوئی حرج کی بات نہیں۔(قسط نمبر 42، الفضل انٹر نیشنل 4 نومبر 2022ء صفحہ 10) 269