بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 267 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 267

عَلَى الْعَلَمِينَ (آل عمران : 34) یعنی اللہ نے آدم اور نوح (کو) اور ابراہیم کے خاندان اور عمران کے خاندان کو یقیناً سب جہانوں پر فضیلت دی تھی۔اسی طرح حدیث میں بھی آتا ہے کہ حضور ﷺ سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو کون ساذ کر سب سے زیادہ پسند ہے تو آپ نے فرمایا: مَا اصْطَفَاهُ اللهُ لِمَلَائِكَتِهِ سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ (سنن ترمذي كتاب الدعوات) یعنی جو ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کے لئے پسند کیا ہے اور وہ ہے سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ - پس ”اصطفاء“ کے معنی اختیار کرنے، پسند کرنے اور چن لینے کے ہیں۔یعنی کسی کی نہایت اعلیٰ صفات کی بناء پر اسے قریب کرنے یا اس کے نیک اعمال کی وجہ سے اسے اپنے قرب میں جگہ دینے کے ہیں۔حضرت مریم اگر چہ خدا تعالیٰ کی نبی تو نہیں تھیں لیکن اللہ تعالٰی نے انہیں ایسی اعلیٰ صفات سے متصف فرمایا تھا کہ اُن کی انہیں صفات کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کے ایک نبی حضرت زکریا علیہ السلام کے دل میں ان جیسی اولاد کے ملنے کی خواہش پیدا ہوئی اور پھر حضرت زکریا کی دعا کی بدولت اللہ تعالیٰ نے انہیں حضرت یحییٰ علیہ السلام کی صورت میں ایک نبی بیٹے سے نوازا۔بنی اسرائیل کی خدا تعالیٰ کے انبیاء کی مسلسل نافرمانی کرنے ، ان کے ساتھ استہزاء کرنے اور ان کی تکذیب کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کے بطن سے ایک نبی بیٹے حضرت عیسی علیہ السلام کو پیدا کیا۔اور اس بچہ کی پیدائش میں بنی اسرائیل میں سے کسی مرد کا کوئی حصہ نہیں ہے۔اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے نبوت جیسی عظیم نعمت ہمیشہ کے لئے چھین لی گئی۔پس ان غیر معمولی صفات کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کے لئے قرآن کریم میں اصطفاء“ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔(قسط نمبر 14، الفضل انٹر نیشنل 07 مئی 2021ء صفحہ 11) 267