بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 266 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 266

سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے عورتوں کے مخصوص ایام میں موبائل فون پر قرآن کریم پڑھنے کے بارہ میں مسئلہ دریافت کیا ہے۔نیز پوچھا ہے کہ قرآن کریم میں حضرت مریم کے لئے ”اضطِفَاء“ کا لفظ استعمال کیوں کیا گیا ہے جبکہ وہ عورت تھیں اور نبی نہیں تھیں؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 14 جنوری 2020ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: عورت کو قرآن کریم کا جو حصہ زبانی یاد ہو ، وہ اسے ایام حیض میں ذکر و اذکار کے طور پر دل میں دہر اسکتی ہے۔نیز بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کے لئے قرآن کریم کا کوئی حصہ پڑھ بھی سکتی ہے لیکن با قاعدہ تلاوت نہیں کر سکتی۔اسی طرح ان ایام میں عورت کو کمپیوٹر یا موبائل فون وغیرہ پر جس میں اسے بظاہر قرآن کریم پکڑنا نہیں پڑتا با قاعدہ تلاوت کی تو اجازت نہیں لیکن کسی ضرورت مثلاً حوالہ تلاش کرنے کے لئے یا کسی کو کوئی حوالہ دکھانے کے لئے کمپیوٹر یا موبائل فون وغیرہ پر قرآن کریم سے استفادہ کر سکتی ہے۔اس میں کوئی حرج نہیں۔جہاں تک قرآن کریم میں حضرت مریم کے لئے اضطفاء“ کے لفظ کے استعمال کی بات ہے تو قرآن کریم اور احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لفظ صرف انبیاء کے لئے استعمال نہیں ہوا بلکہ کسی بھی غیر معمولی اور اہم کام کے لئے کسی کو منتخب کرنے کے لئے اس لفظ کا استعمال کیا گیا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب علیہما السلام کے اپنے بچوں کو یہ بتانے کے لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اس غیر معمولی دین کو چن لیا ہے، اس لفظ کو استعمال کیا گیا ہے۔جیسا کہ فرمایا: يُبَنِي انَّ اللهَ اصْطَفي لكُمُ الدِّيْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُّسْلِمُونَ (البقره: 133) یعنی اے میرے بیٹو! اللہ نے یقیناً اس دین کو تمہارے لئے چن لیا ہے۔پس ہر گز نہ مرنا مگر اس حالت میں کہ تم (اللہ کے) پورے فرمانبر دار ہو۔پھر آل ابراہیم اور آل عمران کی اُس زمانہ کے لوگوں پر فضیلت بیان کرنے کے لئے قرآن کریم نے اس لفظ کو استعمال کیا ہے۔جیسا کہ فرمایا انَّ اللهَ اصْطَفْي أدَمَ وَ نُوْحًا وَ آلَ إِبْرَهِيْمَ وَآلَ عِمْرَنَ 266