بنیادی مسائل کے جوابات — Page 261
سوال: ایک خاتون نے عورتوں کے مخصوص ایام میں ان کے مسجد میں آنے کے بارہ میں مختلف احادیث نیز موجودہ دور میں خواتین کو ان ایام میں اپنی صفائی وغیرہ کے لئے میسر جدید ساز وسامان کے ذکر پر مبنی ایک نوٹ حضورِ انور کی خدمت اقدس میں پیش کر کے مساجد میں ہونے والی جماعتی میٹنگز اور اجلاسات وغیرہ میں ایسی عورتوں کی شمولیت اور ایسی غیر مسلم خواتین کو مسجد کا وزٹ (Visit) وغیرہ کروانے کے بارہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے رہنمائی طلب کی۔جس پر حضور انور نے اپنے مکتوب مؤرخہ 14 مئی 2020ء میں درج ذیل جواب عطا فرمایا: جواب: ایام حیض والی خواتین کے مسجد میں سے کوئی چیز لانے یا مسجد میں چھوڑ کر آنے نیز مسجد میں جا کر بیٹھنے کے بارہ میں الگ الگ احکامات بڑی وضاحت سے حضور اہل علم نے ہمیں سمجھا دیئے ہیں۔چنانچہ جیسا کہ آپ نے اپنے خط میں بھی ذکر فرمایا ہے کہ حضور ام اپنی ازواج کو اس حالت میں چٹائی وغیرہ بچھانے کے لئے مسجد میں جانے کی اجازت فرمایا کرتے تھے۔لیکن جہاں تک اس حالت میں مسجد میں جا کر بیٹھنے کا تعلق ہے تو اس بارہ میں بھی حضور لیلی کی ممانعت بڑی صراحت کے ساتھ احادیث میں مذکور ہے۔چنانچہ حضور ام نے عیدین کے موقعہ پر کنواری لڑکیوں، جوان و پردہ دار اور حائضہ تمام قسم کی عورتوں کو عید کے لئے جانے کی تاکید اہدایت فرمائی یہاں تک کہ ایسی خاتون جس کے پاس اوڑھنی نہ ہو اسے بھی فرمایا کہ وہ اپنی کسی بہن سے عاریہ اوڑھنی لے کر جائے۔لیکن اس کے ساتھ ایام حیض والی خواتین کے لئے یہ بھی ہدایت فرمائی کہ وہ نماز کی جگہ سے الگ رہ کر دعا میں شامل ہوں۔اسی طرح حجتہ الوداع کے موقعہ پر جب حج سے پہلے دیگر مسلمان عمرہ کر رہے تھے،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے مخصوص ایام میں تھیں۔چنانچہ حضور ای ایم نے انہیں عمرہ کی اجازت نہ دی کیونکہ طواف کرنے کے لئے مسجد میں زیادہ دیر تک رہنا پڑتا ہے۔پھر جب وہ ان ایام سے فارغ ہو گئیں تو حج کے بعد انہیں الگ عمرہ کے لئے بھجوایا۔پس احادیث میں اس قدر صراحت کے بیان کے بعد کوئی وجہ نہیں رہ جاتی کہ ہم اپنی خواہشات پوری کرنے کے لئے نئی نئی راہیں تلاش کریں۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ پہلے زمانہ میں عورتوں کو اپنی صفائی کے لئے ایسے ذرائع میسر نہیں 261