بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 247 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 247

سورۃ الفتح کے نزول کے ساتھ مکہ کی فتح کی بشارت عطا فرمائی تھی اور صلح حدیبیہ کو فتح مبین بھی قرار دیا تھا۔پھر وادی کنعان اور وادی مگہ ایک کیسے ہو سکتی ہیں؟ یہ ٹھیک ہے کہ وادی کنعان کو بھی قرآن کریم نے ارض مقدسہ ہی کہا ہے۔لیکن یہاں تو حضرت موسیٰ کے ساتھیوں نے داخل ہونے سے انکار کر دیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر اس قوم کو چالیس سال تک اس ارض مقدسہ سے محروم کر دیا یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی اپنے متبعین کی نافرمانی کی وجہ سے اس نعمت سے محروم رہے۔لیکن اس کے مقابلہ پر ہمارے آقا و مولیٰ حضرت اقدس محمد مصطفی اللی تم کو اللہ تعالیٰ نے ایک طرف بخار اور دیگر وبائی بیماریوں والی بستی یثرب کو مدینتہ الرسول کے نام سے نئے نظم و نسق کے ساتھ آباد کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور پھر اللہ تعالیٰ نے حضور ام کی آمد کی برکت سے اس کی بخار اور وبائی بیماریوں والی مسموم فضا کو خوش گوار آب و ہوا میں تبدیل فرما دیا۔اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے دس ہزار جانثار اور نہایت فرمانبر دار قد وسیوں کے جلو میں ایک عظیم فاتح کے طور پر مکہ کی ارض مقدس میں داخل فرمایا۔پس ان غیر معمولی برکات و فیوض الہیہ سے معمور ارض مقدسہ المکۃ المکرمہ کا کنعان کی بستی سے کیا موازنہ ہو سکتا ہے۔اور ہم ان دونوں مقامات کو ایک کیسے قرار دے سکتے ہیں؟ آپ نے اپنے خط میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کے وادی کنعان میں داخل ہونے سے انکار کرنے اور صحابہ کرسول الم کے حضور کی خدمت میں عرض کرنے کہ ہم بنی اسرائیل کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ تو اور تیرارب جا کے لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں۔بلکہ ہم آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں گے ، کے واقعہ کو صلح حدیبیہ کے موقعہ کا لکھا ہے جبکہ تاریخ سے ثابت ہے کہ یہ واقعہ غزوہ بدر کا ہے۔پس جیسا کہ میں نے لکھا ہے کہ یہ سب آپ کی ذوقی باتیں ہیں، جن میں سے اکثر کی تاریخی لحاظ سے کوئی مطابقت نہیں ٹھہرتی۔ہمیشہ یاد رکھیں کہ قرآن کریم کی ایسی تفسیر اور تشریح نہیں کرنی چاہیے جو خود قرآنی تعلیم، قرآن کریم میں بیان تاریخی شواہد ، سنت رسول الیتیم اور احادیث نبویہ میں بیان تعلیمات کے خلاف ہو۔(قسط نمبر 49، الفضل انٹر نیشنل 24 فروری 2023ء صفحہ 11) 247